المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ خَالِدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْخَزْرَجِ ، كُنْيَتُهُ أَبُو سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا سعد بن مالک بن خالد رضی اللہ عنہ (جن کی کنیت ابو سہل ہے) کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 4933
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن يونس، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن أبي إسحاق، عن جَعْدة بن هبيرة، قال: قلتُ لعليٍّ: يا خالُ، قتلتَ عثمانَ؟ قال: لا واللهِ، ما قَتَلتُه ولا أمرتُ به، ولكني غُلِبتُ (1). جَعْدة بن هُبيرة تُوفي بعد وفاةِ رسول الله ﷺ، وإنما اشتَبَه علَيَّ بوفاةِ أبيه هُبيرة بن أبي وهب. ذكر مناقبِ سَعْد بن مالك بن خالد بن ثَعْلَبة بن حارثة بن عمرو بن الخَزْرج، كنيتُه أبو سهلٍ ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے (اپنے ماموں) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ”اے ماموں! کیا آپ نے عثمان (رضی اللہ عنہ) کو قتل کیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! نہ میں نے انہیں قتل کیا اور نہ اس کا حکم دیا، لیکن میں (حالات کے سامنے) بے بس ہو گیا تھا (یعنی معاملات میرے اختیار سے باہر کر دیے گئے تھے)۔“
(امام حاکم فرماتے ہیں:) جعدہ بن ہبیرہ رسول اللہ ﷺ کے بعد (طویل عرصے تک) زندہ رہے، مجھے ان کی وفات کے بارے میں ان کے والد ہبیرہ بن ابی وہب کی وفات سے مغالطہ ہوا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل محمد بن يونس - وهو الكُديمي - فهو ضعيف جدًّا، لكن صحَّ ذلك عن عليٍّ من وجوه أخرى كما تقدَّم برقم (4577) و (4616).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت کمزور) ہے، اس کی وجہ محمد بن یونس ہیں - اور یہ "الکدیمی" ہیں - جو کہ بہت زیادہ ضعیف راوی ہیں۔ لیکن یہ مضمون (متن) دیگر سندوں سے علی رضی اللہ عنہ سے ثابت (صحیح) ہے جیسا کہ نمبر (4577) اور (4616) کے تحت گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت کمزور) ہے، اس کی وجہ محمد بن یونس ہیں - اور یہ "الکدیمی" ہیں - جو کہ بہت زیادہ ضعیف راوی ہیں۔ لیکن یہ مضمون (متن) دیگر سندوں سے علی رضی اللہ عنہ سے ثابت (صحیح) ہے جیسا کہ نمبر (4577) اور (4616) کے تحت گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4933 سے ماخوذ ہے۔