المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذَهَابُ خَدِيجَةَ بِالنَّبِيِّ إِلَى وَرَقَةَ وَتَصْدِيقُهُ باب: ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہا ہیں — سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ کے پاس لے جانا اور ان کی تصدیق کرنا
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن حنبل وزهير بن حرب، قالا حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثني أبي، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن أبي الأشعث، عن إسماعيل بن إياس بن عفيف، عن أبيه، عن جده (1) عَفيف بن عمرو، قال: كنتُ امرَأً تاجرًا وكنت صديقًا للعباس بن عبد المطَّلب في الجاهلية، فقدمتُ لِتجارةٍ فنزلتُ على العباس بن عبد المطلب بمِنًى، فجاء رجلٌ فنَظَر إلى الشمس حين مالَتْ، فقام يُصلِّي، ثم جاءت امرأةٌ فقامت تُصلّي، ثم جاء غُلامٌ حينَ راهَقَ الحُلُمَ فقام يُصلِّي، فقلت للعباس: من هذا؟ فقال: هذا محمدُ بن عبد الله بن عبد المُطّلب ابن أَخِي يَزْعُم أنه نبيٌّ، ولم يتابعْه على أمره غيرُ هذه المرأةِ وهذا الغلامِ، وهذه المرأةُ خديجةُ بنتُ خُويلِد امرأتُه، وهذا الغلام ابن عمِّه عليُّ بن أبي طالب. قال عَفِيف بن عَمرو - وأسلمَ وحَسُنَ إسلامه -: لوَدِدتُ أني كنتُ أسلمتُ يومئذٍ، فيكونَ لي رُبعُ الإسلامِ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4842 - صحيحعفیف بن عمرو سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک تاجر تھا اور زمانہ جاہلیت میں عباس بن عبدالمطلب کا دوست تھا، میں تجارت کی غرض سے آیا اور منیٰ میں عباس بن عبدالمطلب کے پاس ٹھہرا، (وہاں میں نے دیکھا کہ) ایک شخص آیا اور جب سورج ڈھل گیا تو وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، پھر ایک خاتون آئیں اور وہ بھی کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، پھر ایک لڑکا آیا جو ابھی جوانی کے قریب تھا اور وہ بھی کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، میں نے عباس سے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے، میرا بھتیجا، اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے، اور اس کے اس معاملے میں سوائے اس خاتون اور اس لڑکے کے کسی نے اس کی پیروی نہیں کی، یہ خاتون خدیجہ بنت خویلد اس کی بیوی ہے اور یہ لڑکا اس کا چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب ہے“، عفیف بن عمرو (جب وہ اسلام لائے اور ان کا اسلام بہترین ہو گیا) کہا کرتے تھے: ”میری یہ تمنا تھی کہ کاش میں اسی دن اسلام قبول کر لیتا تو میں اسلام کا چوتھا حصہ (چوتھا مسلمان) ہوتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
تصحیحِ سند: "المستدرک" اور ذہبی کی "التلخیص" میں سند یوں آئی ہے: "محمد بن اسحاق عن اسماعیل بن عمرو بن عفیف عن جدہ عفیف بن عمرو"۔ یہاں اسماعیل کے والد "ایاس" کا نام بدل کر "عمرو" کر دیا گیا، اور سند سے اسماعیل کے والد کا نام گر گیا، جس سے روایت اسماعیل کی اپنے دادا سے براہِ راست ہو گئی۔ نیز "یحییٰ بن ابی الاشعث" کا نام بھی گر گیا۔ ابن حجر کی "اتحاف المہرۃ" (13849) اور زیلعی کی "نصب الرایہ" (3/ 459) میں بھی یہی غلطی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قدیم غلطی ہے، شاید حاکم سے ہی ہوئی ہو۔ بہرحال اس کی تصحیح ضروری تھی۔ اس کی تصحیح "مسند احمد" (3/ 1787) اور زہیر بن حرب کے طریق سے تخریج کرنے والے دیگر مصادر جیسے احمد بن زہیر کی "التاریخ الکبیر" (3/ 388)، طبرانی کی "المعجم الکبیر" (18/ 1811) اور عقیلی کی "الضعفاء الکبیر" (95) سے کی گئی ہے۔ نیز یعقوب بن ابراہیم بن سعد سے اسے دیگر ثقہ حفاظ نے بھی روایت کیا ہے، اور محمد بن اسحاق سے یونس بن بکیر نے بھی روایت کیا ہے۔ پس جو ہم نے ثابت کیا ہے وہی یقینی طور پر درست ہے۔