المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
يَا عَلِيُّ ، أَنْتَ سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا ، سَيِّدٌ فِي الْآخِرَةِ . باب: اے علی! تم دنیا میں بھی سردار ہو اور آخرت میں بھی سردار ہو
سمعت أبا عبد الله القرشي: يقول سمعت أحمد بن يحيى الحُلْواني يقول: لما وَرَدَ أبو الأزهَر من صنعاء، وذاكَرَ أهل بغداد بهذا الحديث، أنكره يحيى ابن مَعِين، فلما كان يومُ مجلِسه قال في آخر المجلس: أين هذا الكذّابُ النيسابوريُّ الذي يذكر عن عبد الرزاق هذا الحديثَ؟ فقام أبو الأزهر، فقال: هو ذا أنا، فضحِك يحيى بن مَعِين من قوله وقيامِه في المجلس، فقرّبه وأدناهُ، ثم قال له: كيف حدّثَك عبد الرزاق بهذا ولم يُحدّث به غيرَك؟ فقال: اعلم يا أبا زكريا أني قدمتُ صنعاءَ وعبدُ الرزاق غائبٌ في قريةٍ له بعيدةٍ، فخرجت إليه وأنا عَليلٌ، فلما وصلتُ إليه سألني عن أمر خُراسان فحدّثتُه بها، وكتبتُ عنه وانصرفتُ معه إلى صنعاء، فلما ودّعتُه قال لي: قد وجبَ عليَّ حقُّك، فأنا أحدّثُك بحديثٍ لم يسمعه مني غيرُك، فحدثني - واللهِ - بهذا الحديثِ لفظًا، فصدّقه يحيى بن مَعِين واعتذَر إليه (1).
احمد بن یحییٰ الحلوانی سے روایت ہے کہ جب ابوالازہر صنعاء سے واپس آئے اور اہل بغداد کے سامنے اس حدیث کا تذکرہ کیا تو یحییٰ بن معین نے اس کا انکار کر دیا، پھر جب ان کی مجلس کا دن آیا تو مجلس کے آخر میں انہوں نے پوچھا: ”وہ نیشاپور کا جھوٹا شخص کہاں ہے جو عبدالرزاق کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتا ہے؟“ ابوالازہر کھڑے ہوئے اور کہا: ”وہ میں ہی ہوں،“ تو یحییٰ بن معین ان کی بات اور مجلس میں کھڑے ہونے کے انداز پر ہنس پڑے، پھر انہیں اپنے قریب بلایا اور کہا: ”عبدالرزاق نے یہ حدیث صرف تمہیں کیسے بیان کی جبکہ تمہارے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”اے ابوزکریا! جان لیجیے کہ میں صنعاء پہنچا تو عبدالرزاق اپنی ایک دور دراز بستی میں تھے، میں بیماری کی حالت میں ان کی طرف نکلا، جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے خراسان کے حالات دریافت کیے، میں نے انہیں وہاں کے حالات بتائے، ان سے احادیث لکھیں اور پھر ان کے ساتھ صنعاء واپس آیا، جب میں انہیں الوداع کہنے لگا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ پر تمہارا حق واجب ہو گیا ہے، لہذا میں تمہیں ایسی حدیث سناؤں گا جو میرے علاوہ کسی اور نے نہیں سنی، پھر اللہ کی قسم انہوں نے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ مجھے سنائی،“ تو یحییٰ بن معین نے ان کی تصدیق کی اور ان سے معذرت چاہی۔
تشریح، فوائد و مسائل
تفصیلِ روایت: حافظ احمد بن یحییٰ التستری نے یحییٰ بن معین سے اس حکایت کی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے - جیسا کہ "تاریخ بغداد" (5/ 69) میں ہے - کہ یحییٰ نے ابو الازہر سے کہا: "اس حدیث میں گناہ (غلطی) تمہارے علاوہ کسی اور کا ہے۔"