حدیث نمبر: 4553
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عمر بن محمد، أنَّ سالم بن عبد الله بن عمر حدَّثه عن عبد الله بن عمر قال: ما سمعتُ عمر بن الخطاب يقولُ لشيءٍ قطُّ: إني لأظنُّ كذا وكذا، إلَّا كان كما يَظُنُّ، بيْنا عمرُ بن الخطاب جالسٌ إذ مرَّ به رجلٌ جميلٌ، فقال له: أخطأ ظَنِّي أوْ إنك على دِينِك في الجاهلية، ولقد (2) كنت كاهنَهم، قال: ما رأيتُ كاليوم استُقبِلَ به رجلٌ مسلمٌ، قال عمر: فإني أعزِمُ عليكَ ألا أخبرتَني، قال: كنتُ كاهنَهم في الجاهلية، قال: فماذا أعجَبُ ما جاء بكَ؛ فذكر حديثًا طويلًا ليس له سنَد (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4503 - الحديث في صحيح البخاري بهذا الإسناد بطوله
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کبھی بھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کسی چیز کے بارے میں یہ کہتے نہیں سنا کہ ”میرا خیال ہے کہ یہ ایسے اور ایسے ہے“ مگر وہ ویسا ہی ہوتا جیسا وہ گمان کرتے تھے۔ ایک بار سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے کہ ان کے پاس سے ایک خوبصورت شخص گزرا، آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”یا تو میرا اندازہ غلط ہے یا پھر تم ابھی تک اپنے جاہلیت والے دین پر ہو، اور تم جاہلیت میں ان کے کاہن (نجومی) تھے“، اس نے کہا: میں نے آج جیسا استقبال کسی مسلمان کا ہوتے نہیں دیکھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ مجھے سچ بتاؤ“، اس نے کہا: جی ہاں، میں جاہلیت میں ان کا کاہن تھا، آپ نے پوچھا: ”تمہارے پاس آنے والی سب سے عجیب بات کیا تھی؟“ پھر اس نے ایک لمبی حدیث ذکر کی جس کی سند (اس مقام پر) موجود نہیں ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4553
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عمر بن محمد: هو ابن زيد بن عبد الله بن عمر.» [ترقيم الرساله 4553] [ترقيم الشركة 4529] [ترقيم العلميه 4503]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ص) و (م): وقد.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (م) میں "وقد" ہے۔
(3) إسناده صحيح. عمر بن محمد: هو ابن زيد بن عبد الله بن عمر.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: عمر بن محمد سے مراد ابن زید بن عبد اللہ بن عمر ہیں۔
وأخرجه البخاري (3866) عن يحيى بن سليمان، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وذكر القصة التي أشار إليها المصنّف، إلّا أنه قال في روايته: أو لقد كان كاهنَهم. على التردُّد. وقال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 11/ 338: حاصله أنَّ عمر ظنَّ شيئًا متردّدًا بين شيئين، أحدهما يتردد بين شيئين، كأنه قال: هذا الظن إما خطأ وإما صواب، فإن كان صوابًا فهذا الآن إما باق على كفره وإما كان كاهنًا، وقد أظهر الحالُ القسم الأخير، وكأنه ظهرت له من صفة مشيِه أو غير ذلك قرينةٌ أثرت له ذلك الظنّ، فالله أعلم.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (رقم: 3866) یحییٰ بن سلیمان سے، انہوں نے عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور وہ قصہ ذکر کیا جس کی طرف مصنف نے اشارہ کیا ہے، سوائے اس کے کہ بخاری کی روایت میں شک کے ساتھ یہ الفاظ ہیں: "أو لقد كان كاهنَهم" (یا تو وہ ان کا کاہن رہا ہے)۔
نوٹ / توضیح: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (11/ 338) میں فرمایا: اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر نے ایک ایسی چیز کا گمان کیا جو دو چیزوں کے درمیان متردد تھی... گویا انہوں نے کہا: یہ گمان یا تو غلط ہے یا درست، اگر درست ہے تو یہ شخص یا تو ابھی تک اپنے کفر پر باقی ہے یا یہ (جاہلیت میں) کاہن تھا۔ اور موجودہ صورتحال نے آخری قسم (کاہن ہونے) کو ظاہر کر دیا۔ لگتا ہے کہ اس شخص کی چال ڈھال یا کسی اور چیز سے کوئی ایسی قرینہ ظاہر ہوئی جس نے ان میں یہ گمان پیدا کیا۔ واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4553 سے ماخوذ ہے۔