حدیث نمبر: 4475
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السّمّاك ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا سُفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن القاسم بن كَثير، عن قيس الخارفي، قال: سمعتُ عليًّا يقول: سَبَقَ رسول الله ﷺ، وصَلَّى أبو بَكْرٍ، وثَلَّثَ عُمر، ثم خَبَطَتْنا فتنةٌ، ويَعفُو اللهُ عمَّن يشاء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4426 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

قیس خارفی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: ”رسول اللہ ﷺ (فضیلت میں) سب سے آگے نکل گئے، ابوبکر دوسرے نمبر پر رہے اور عمر تیسرے نمبر پر رہے، اس کے بعد ہمیں ایک فتنے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور اللہ جس کو چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4475
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل قيس الخارفي - وهو ابن سعد - وقد توبع. أبو أحمد الزُّبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزُّبير، ويحيى: هو ابن سعيد القطان، وسفيان: هو ابن سعيد الثَّوري.» [ترقيم الرساله 4475] [ترقيم الشركة 4452] [ترقيم العلميه 4426]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل قيس الخارفي - وهو ابن سعد - وقد توبع. أبو أحمد الزُّبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزُّبير، ويحيى: هو ابن سعيد القطان، وسفيان: هو ابن سعيد الثَّوري.
درجۂ حدیث: خبر صحیح ہے، اور یہ سند قیس الخارفی (ابن سعد) کی وجہ سے ’’حسن‘‘ ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو احمد الزبیری: یہ محمد بن عبداللہ بن زبیر ہیں۔ یحییٰ: یہ ابن سعید القطان ہیں۔ سفیان: یہ ابن سعید الثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 2/ (1020) و (1107) و (1259) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (895) من طريق أبي إسحاق السَّبيعي، عن عبد خير، عن عليّ. وتابع أبا إسحاق عليه خالد بن علقمة عند الطبراني في "الأوسط" (1639)، وإسناده إليهما حسن.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 2/ (1020، 1107، 1259) نے سفیان ثوری کے طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور احمد (895) نے ابو اسحاق السبیعی > عبد خیر > علی کے طریق سے۔
متابعات و شواہد: ابو اسحاق کی متابعت خالد بن علقمہ نے (طبرانی الاوسط 1639) میں کی ہے، اور ان دونوں تک اس کی سند ’’حسن‘‘ ہے۔
وأخرجه أحمد (1256) من طريق شريك بن عبد الله النخعي، عن الأسود بن قيس، عن عمرو بن سفيان الثقفي، عن عليٍّ. وإسناده حسن.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1256) نے شریک بن عبداللہ النخعی > اسود بن قیس > عمرو بن سفیان الثقفی > علی کے طریق سے تخریج کیا ہے، اور اس کی سند ’’حسن‘‘ ہے۔
قوله: "وصلَّى أبو بكر" أي: جاء بعد النبي ﷺ، وهو مأخوذ من المصلِّي من الخيل، وهو الذي يجيء بعد السابق، لأنَّ رأسَه يلي صَلَا المتقدم، والصلاة وسط الظهر أو ما انحدر من الوَرِكَين.
نوٹ / توضیح: قول ’’و صلّی ابو بکر‘‘ کا مطلب ہے: وہ نبی ﷺ کے بعد آئے (دوسرے نمبر پر)۔ یہ گھڑ دوڑ کے گھوڑوں میں ’’المصلّی‘‘ سے ماخوذ ہے، جو ’’السابق‘‘ (سب سے آگے والے) کے بعد آتا ہے۔ کیونکہ اس کا سر اگلے گھوڑے کی پیٹھ (صَلا) کے قریب ہوتا ہے۔ ’’الصلاۃ‘‘ کا مطلب ہے پیٹھ کا درمیانی حصہ یا وہ جگہ جو دونوں کولہوں سے نیچے ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4475 سے ماخوذ ہے۔