المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
أَظْلَمَ فِي الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ يَوْمَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ 4445 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، ثَنَا أَبُو ظَفَرٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : " لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَظْلَمَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ " . باب: نبی کریم ﷺ کی وفات کے دن مدینہ کی ہر چیز پر اندھیرا چھا جانا
حدیث نمبر: 4437
أخبرنا الحُسين بن الحَسن بن أيوب، حدَّثنا أبو حاتم الرازي، حدَّثنا أبو ظَفَر، حدَّثنا جعفر بن سُليمان، عن ثابت، عن أنس قال: لما كانَ اليومُ الذي ماتَ فيه رسولُ الله ﷺ أظلَمَ من المدينة كلُّ شيءٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4389 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا مدینہ کی ہر چیز پر تاریکی چھا گئی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان: وهو الضَّبعي. أبو ظَفَر: هو عبد السلام بن مُطهِّر الأزدي، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.
درجۂ حدیث: اس کی سند جعفر بن سلیمان (الضبعی) کی وجہ سے ’’جید‘‘ (عمدہ) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو ظفر: یہ عبدالسلام بن مطہر الازدی ہیں۔ اور ثابت: یہ (ثابت) بن اسلم البنانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 41 / (13312) و (13830)، وابن ماجه (1631)، والترمذي (3618)، وابن حبان (6634) من طرق عن جعفر بن سليمان، به. وصحّحه الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 41/ (13312، 13830)، ابن ماجہ (1631)، ترمذی (3618)، اور ابن حبان (6634) نے جعفر بن سلیمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اور ترمذی نے اسے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اور اس کے بعد والی (روایت) دیکھیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند جعفر بن سلیمان (الضبعی) کی وجہ سے ’’جید‘‘ (عمدہ) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو ظفر: یہ عبدالسلام بن مطہر الازدی ہیں۔ اور ثابت: یہ (ثابت) بن اسلم البنانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 41 / (13312) و (13830)، وابن ماجه (1631)، والترمذي (3618)، وابن حبان (6634) من طرق عن جعفر بن سليمان، به. وصحّحه الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 41/ (13312، 13830)، ابن ماجہ (1631)، ترمذی (3618)، اور ابن حبان (6634) نے جعفر بن سلیمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اور ترمذی نے اسے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اور اس کے بعد والی (روایت) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4437 سے ماخوذ ہے۔