المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ باب: نبی کریم ﷺ کا اہلِ بقیع کے لیے استغفار کرنا
حدیث نمبر: 4432
فقد حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني عبد الله بن ربيعة (1)، عن عُبيدٍ مولى الحَكَم (1)، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن أبي مُويهبة، عن رسول الله ﷺ نحوَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4383 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح (جیسا کہ حدیث نمبر 4431 میں ذکر ہوا) فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: عُبيد بن أبي الحكم، فتحرفت كلمة "مولى" إلى: بن أبي، وسقط لفظ "أبي" من (م). وجاء على الصواب في "دلائل البيهقيّ" لكن زاد مُحققه من عنده ذكر أبيه، فقال: عن عبيد [بن حُنين] مولى الحكم، ولا يصح لأَنَّ جميع من رواه عن أحمد بن عبد الجبار عن يونس بن بكير لم يذكروا فيه أبا عُبيد، بل أطلقوه، فدلَّ على أن رواية يونس بن بكير دون تقييد.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام ’’عبید بن ابی الحکم‘‘ لکھا گیا ہے، چنانچہ لفظ ’’مولیٰ‘‘ تحریف ہو کر ’’بن ابی‘‘ بن گیا، اور نسخہ (م) سے لفظ ’’ابی‘‘ گر گیا۔ ’’دلائل البیہقی‘‘ میں یہ درست آیا ہے لیکن اس کے محقق نے اپنی طرف سے ان کے والد کے نام کا اضافہ کر دیا اور کہا: عن عبید [بن حنین] مولی الحکم۔ یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ وہ تمام راوی جنہوں نے اسے احمد بن عبدالجبار > یونس بن بکیر سے روایت کیا ہے، انہوں نے اس میں عبید کے والد کا ذکر نہیں کیا بلکہ مطلق (صرف عبید) رکھا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یونس بن بکیر کی روایت (والد کے نام کی) قید کے بغیر ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام ’’عبید بن ابی الحکم‘‘ لکھا گیا ہے، چنانچہ لفظ ’’مولیٰ‘‘ تحریف ہو کر ’’بن ابی‘‘ بن گیا، اور نسخہ (م) سے لفظ ’’ابی‘‘ گر گیا۔ ’’دلائل البیہقی‘‘ میں یہ درست آیا ہے لیکن اس کے محقق نے اپنی طرف سے ان کے والد کے نام کا اضافہ کر دیا اور کہا: عن عبید [بن حنین] مولی الحکم۔ یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ وہ تمام راوی جنہوں نے اسے احمد بن عبدالجبار > یونس بن بکیر سے روایت کیا ہے، انہوں نے اس میں عبید کے والد کا ذکر نہیں کیا بلکہ مطلق (صرف عبید) رکھا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یونس بن بکیر کی روایت (والد کے نام کی) قید کے بغیر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4432 سے ماخوذ ہے۔