المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
نُزُولُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ لِيُزَلْزِلَ بَنِي قُرَيْظَةَ باب: حضرت جبرئیلؑ کا دِحیہ کلبی کی صورت میں آ کر بنی قریظہ پر رعب ڈالنا
حدیث نمبر: 4380
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدَّثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدَّثنا حمّاد بن سَلَمة، عن عبد الملك بن عُمير قال: حدّثني عَطيّة القُرَظي، قال: عُرِضْنا على رسولِ الله ﷺ زَمَنَ قُريظةَ، فمن كان منا مُحتلِمًا أو نَبَتَت عانَتُه قُتِلَ، فنَظَروا إليَّ فلم تكُن نبتتْ عانتي، فتُرِكْتُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله طُرق عن عبد الملك بن عُمَير، منهم الثَّوْري وشُعْبة وزُهَير (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4333 - صحيححافظ طلحہ بابر
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو قریظہ (کے فیصلے) کے وقت ہمیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، تو ہم میں سے جو بالغ ہو چکا تھا یا جس کے زیرِ ناف بال نکل آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا، انہوں نے میری جانب دیکھا تو ابھی میرے زیرِ ناف بال نہیں نکلے تھے، چنانچہ مجھے چھوڑ دیا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی عبد الملک بن عمیر سے کئی اسناد مروی ہیں جن میں ثوری، شعبہ اور زہیر شامل ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وقد تقدم برقم (2600) من طريق شعبة عن عبد الملك. وتقدمت هناك الإشارة إلى طرقه.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پیچھے نمبر (2600) پر شعبہ عن عبدالملک کے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہاں اس کے دیگر طرق کی طرف بھی اشارہ گزر چکا ہے۔
(2) رواية زهير - وهو ابن معاوية - عند ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه الكبير" (1548).
حوالہ / مصدر: زہیر (بن معاویہ) کی روایت ابن ابی خیثمہ کے ہاں "التاریخ الکبیر" (1548) کے دوسرے سفر (حصے) میں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وقد تقدم برقم (2600) من طريق شعبة عن عبد الملك. وتقدمت هناك الإشارة إلى طرقه.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پیچھے نمبر (2600) پر شعبہ عن عبدالملک کے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہاں اس کے دیگر طرق کی طرف بھی اشارہ گزر چکا ہے۔
(2) رواية زهير - وهو ابن معاوية - عند ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه الكبير" (1548).
حوالہ / مصدر: زہیر (بن معاویہ) کی روایت ابن ابی خیثمہ کے ہاں "التاریخ الکبیر" (1548) کے دوسرے سفر (حصے) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4380 سے ماخوذ ہے۔