المستدرك على الصحيحين
كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة— رسول اللہ ﷺ کی ان نشانیوں (معجزات) کا ذکر جو دلائلِ نبوت میں سے ہیں۔
ذِكْرُ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ باب: ابتدائی مہاجرین کا ذکر
حدثنا أبو الطيب محمد بن محمد الشَّعِيري، حدثنا مَحمِش (1) بن عِصام، حدثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن شُعْبة بن الحجّاج، عن أبي إسحاق، عن البراء بن عازب، أنه قال: أولُ مَن قَدِمَ علينا المدينةَ من المهاجرين مصعبُ بن عُمير وابنُ أمّ مَكتُوم، فكانوا يُقرؤوننا، فَقَدِمَ رسولُ الله ﷺ وقد قرأتُ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ وسُوَرًا من المُفصَّل، ثم قدم سعدُ بن مالك وعمارُ بن ياسر، ثم قدم عمرُ بن الخطاب في عشرين، ثم قدم رسولُ الله ﷺ، فما فَرِحْنا بشيءٍ فَرَحَنا برسول الله ﷺ، فجعلَ النساءُ والصِّبيان يَسْعَون يقولون: هذا رسولُ الله؛ ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4254 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مدینہ میں مہاجرین میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تشریف لائے، وہ ہمیں (قرآن) پڑھاتے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور اس وقت تک میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور مفصل کی کئی سورتیں پڑھ چکا تھا، پھر سیدنا سعد بن مالک اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما آئے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیس افراد کے ساتھ تشریف لائے، پھر رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری ہوئی، ہمیں کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی رسول اللہ ﷺ کی آمد پر ہوئی، یہاں تک کہ عورتیں اور بچے گلیوں میں دوڑتے ہوئے پکار رہے تھے: ”یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں؛ یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "محمد" (دال مہملہ کے ساتھ) ہو گیا ہے، حالانکہ درست "محمش" (شین معجمہ کے ساتھ) ہے۔ مصنف (حاکم) نے اپنی کتاب "تاریخ نیشاپور" میں اسے درست ذکر کیا ہے جیسا کہ اس کے مطبوعہ "تلخیص" میں ہے، اور ان کا ترجمہ ذہبی کی "تاریخ الاسلام" (6/ 628) میں دیکھیں۔