المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ { وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى } - سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ باب: تَفْسِيرُ سُورَةِ { وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى } - سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ
حدَّثَناه عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حدَّثنا يعقوب بن سفيان، حدَّثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدَّثنا عبد الرحمن بن أبي المَوَال (1)، عن عبيد الله بن مَوهَب، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "ستةٌ لَعنتُهم، لَعَنَهم الله وكلُّ نبيٍّ مجاب: الزائدُ في كتاب الله، والمكذِّبُ بأقدار الله، والمتسلِّطُ بالجَبَروت ليُذِلُّ من أعزَّ الله ويُعزَّ من أذلَّ الله، والمستحِلُّ لحُرَمِ الله، والمستحِلُّ من عِتْرتي ما حرَّم الله، والتاركُ لسُنَّتي" (2). قد احتجَّ الإمامُ البخاري بإسحاق بن محمد الفَرْوي وعبد الرحمن بن أبي المَوَال في "الجامع الصحيح"، وهذا أولى بالصواب من الإسناد الأول.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھ لوگوں پر میں نے لعنت کی ہے، اور اللہ اور ہر وہ نبی جس کی دعا قبول ہوتی ہے، نے بھی ان پر لعنت کی ہے: (1) اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا، (2) اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا، (3) تکبر و جبر کے ساتھ مسلط ہونے والا، تاکہ اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت دی ہے اور اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے، (4) اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھنے والا، (5) میری اولاد (اہلِ بیت) کے بارے میں اس چیز کو حلال سمجھنے والا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، (6) اور میری سنت کو چھوڑنے والا۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ”الجامع الصحیح“ میں اسحاق بن محمد الفروی اور عبدالرحمٰن بن ابی الموال سے حجت پکڑی ہے، اور یہ سند پہلی سند کی نسبت زیادہ درست ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں اس جگہ اور اگلی جگہ یہ تحریف ہو کر "عبد الرحمن بن ابی الرجال" بن گیا ہے، درستگی گزشتہ مکرر نمبر (102) سے کی گئی ہے۔ اور بخاری نے "الجامع الصحیح" میں "ابن ابی الموال" سے حجت پکڑی ہے نہ کہ ابن ابی الرجال سے۔
(2) إسناده ضعيف. وهو مكرر (102).
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ یہ نمبر (102) پر مکرر ہے۔