المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ باب: سورۂ الاحقاف کی تفسیر
حدیث نمبر: 3736
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا أبو داود سليمان بن الأشعث السِّجِستاني، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير العَبْدي، حَدَّثَنَا سفيان، عن صفوان بن سُلَيم، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ [الأحقاف: 4]، قال: هو الخَطُّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أُسنِدَ عن الثوري من وجه غير مُعتمَد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3694 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ [سورة الأحقاف: 4] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد (قدیم) تحریر یا لکیریں کھینچنا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام ثوری سے یہ ایک ایسی سند سے بھی مروی ہے جو قابلِ اعتماد نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 3 / (1992) عن يحيى القطان، عن سفيان، بهذا الإسناد - ونقل عن سفيان أنه تشكّك في وقفه فقال: لا أعلمه إلّا عن النَّبِيّ ﷺ.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1992) نے یحییٰ قطان عن سفیان کے واسطے سے روایت کیا اور سفیان سے نقل کیا کہ وہ اس کے موقوف ہونے میں شک میں پڑ گئے، تو کہا: "میں اسے نبی ﷺ سے ہی جانتا ہوں۔"
والمراد بالخط: ما كانت بعض العرب تفعله من خطِّهم خطوطًا في الأرض يتكهَّنون بها.
نوٹ / توضیح: "خط" سے مراد وہ لکیریں ہیں جو بعض عرب زمین پر کھینچتے تھے اور ان کے ذریعے کاہنی (غیب دانی) کرتے تھے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 3 / (1992) عن يحيى القطان، عن سفيان، بهذا الإسناد - ونقل عن سفيان أنه تشكّك في وقفه فقال: لا أعلمه إلّا عن النَّبِيّ ﷺ.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1992) نے یحییٰ قطان عن سفیان کے واسطے سے روایت کیا اور سفیان سے نقل کیا کہ وہ اس کے موقوف ہونے میں شک میں پڑ گئے، تو کہا: "میں اسے نبی ﷺ سے ہی جانتا ہوں۔"
والمراد بالخط: ما كانت بعض العرب تفعله من خطِّهم خطوطًا في الأرض يتكهَّنون بها.
نوٹ / توضیح: "خط" سے مراد وہ لکیریں ہیں جو بعض عرب زمین پر کھینچتے تھے اور ان کے ذریعے کاہنی (غیب دانی) کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3736 سے ماخوذ ہے۔