المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
الصَّبْرُ نِصْفُ الْإِيمَانِ باب: صبر ایمان کا نصف ہے
أخبرنا أبو زكريا العنبري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا الفضل بن موسى، حَدَّثَنَا عيسى بن عُبيد، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، قال: حدثني أُبيُّ بن كعب قال: لما كان يومُ أُحدٍ أُصيبَ من الأنصار أربعةٌ وستون، ومنهم ستةٌ فيهم حمزةُ، فمَثَّلوا بهم، فقالت الأنصار: لئِن أَصَبْنا منهم يومًا مثل هذا لنُربِيَنَّ عليهم، فلما كان يومُ فتح مكةَ أَنزل الله: ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النحل: 126] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب احد کا دن تھا تو انصار کے چونسٹھ اور مہاجرین کے چھ صحابہ شہید ہوئے جن میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، مشرکین نے ان کے اجساد کی بے حرمتی (مثلہ) کی تھی، اس پر انصار نے کہا: ”اگر ہمیں کبھی ان پر اس طرح کا موقع ملا تو ہم ان سے بڑھ کر بدلہ لیں گے“، پھر جب فتح مکہ کا دن آیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ ”اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی جتنا تمہارے ساتھ کیا گیا، اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔“ [سورة النحل: 126]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: عیسیٰ بن عبید کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ (3408) پر مکرر ہے اور یہاں اس حدیث کے ذکر کی کوئی خاص وجہ نہیں بنتی۔