المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ - الصَّمْتُ مِنَ الْحِكْمَةِ باب: سورۂ سبا کی تفسیر: خاموشی حکمت میں سے ہے
حدیث نمبر: 3625
حدثنا أبو محمد المُزَني، أخبرنا أحمد بن نَجْدةَ القرشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الرزاق، أخبرني عبد الوهاب بن مجاهد، عن أبيه، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ﴾ [سبأ: 11]، قال: لا تُدِقَّ المساميرَ وتُوسِّعْ فتَسلَسَ، ولا تُغلظِ المساميرَ وتُضيِّقِ الحَلَقَ فتَنفصِمَ، واجعله قَدْرًا (2). هذا حرفٌ غريبٌ في التفسير، وعبد الوهاب ممَّن لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3583 - عبد الوهاب لم يخرجاه لضعفهحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ﴾ [سورة سبا: 11] کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) نہ تو میخوں کو اتنا باریک رکھو کہ وہ ڈھیلی ہو کر نکل جائیں اور نہ ہی انہیں اتنا موٹا کرو کہ وہ زرہ کے حلقوں کو توڑ دیں، بلکہ اسے معتدل اور اندازے کے مطابق رکھو۔ یہ تفسیر میں ایک غریب قول ہے اور عبد الوہاب بن مجاہد کی وجہ سے اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًا من أجل عبد الوهاب بن مجاهد، فإنه متَّفَق على ضعفه، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، وقد خالفه عبد الله بن أبي نجيح الثقة عند الطبري في "تفسيره" 22/ 68 فرواه عن مجاهد من قوله.
درجۂ حدیث: "عبد الوہاب بن مجاہد" کی وجہ سے یہ سند "سخت ضعیف" ہے، کیونکہ ان کے ضعف پر اتفاق ہے اور ذہبی نے "التلخیص" میں اسے علت بنایا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ان کی مخالفت عبد اللہ بن ابی نجیح (ثقہ) نے طبری (22/ 68) میں کی ہے اور اسے مجاہد کا "قول" (مقطوع) بیان کیا ہے۔
درجۂ حدیث: "عبد الوہاب بن مجاہد" کی وجہ سے یہ سند "سخت ضعیف" ہے، کیونکہ ان کے ضعف پر اتفاق ہے اور ذہبی نے "التلخیص" میں اسے علت بنایا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ان کی مخالفت عبد اللہ بن ابی نجیح (ثقہ) نے طبری (22/ 68) میں کی ہے اور اسے مجاہد کا "قول" (مقطوع) بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3625 سے ماخوذ ہے۔