حدیث نمبر: 3616
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبي صالح، عن أم هانئ قالت: خَطَبَني النبيُّ ﷺ فاعتذرتُ إليه فعَذَرَني، وأَنزل الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ﴾ إلى قوله: ﴿اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ﴾ [الأحزاب: 50]، قالت: فلم أكن أَحِلُّ له، لم أهاجِرْ معه، كنت من الطُّلَقاءِ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3574 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے (اپنی معذوری کی وجہ سے) معذرت کر لی اور آپ ﷺ نے میری معذرت قبول فرما لی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ﴾ [سورة الاحزاب: 50] ”اے نبی! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دیں...“ یہاں تک کہ ﴿اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ﴾ ”جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔“ انہوں نے فرمایا: پس میں آپ کے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی بلکہ میں ’طلقاء‘ (فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردہ لوگوں) میں سے تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3616
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف. وهو مكرر (2789).» [ترقيم الرساله 3616] [ترقيم الشركة 3595] [ترقيم العلميه 3574]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف. وهو مكرر (2789).
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے اور یہ (2789) پر مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3616 سے ماخوذ ہے۔