المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَوَاهِدُ حَدِيثِ لَا طَلَاقَ إِلَّا بنِكَاحٍ باب: حدیث ”نکاح کے بغیر طلاق نہیں“ کی تائیدی روایات
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبي صالح، عن أم هانئ قالت: خَطَبَني النبيُّ ﷺ فاعتذرتُ إليه فعَذَرَني، وأَنزل الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ﴾ إلى قوله: ﴿اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ﴾ [الأحزاب: 50]، قالت: فلم أكن أَحِلُّ له، لم أهاجِرْ معه، كنت من الطُّلَقاءِ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3574 - صحيحسیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے (اپنی معذوری کی وجہ سے) معذرت کر لی اور آپ ﷺ نے میری معذرت قبول فرما لی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ﴾ [سورة الاحزاب: 50] ”اے نبی! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دیں...“ یہاں تک کہ ﴿اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ﴾ ”جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔“ انہوں نے فرمایا: پس میں آپ کے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی بلکہ میں ’طلقاء‘ (فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردہ لوگوں) میں سے تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے اور یہ (2789) پر مکرر ہے۔