حدیث نمبر: 3560
وأخبرنا أبو العبَّاس المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد قال: أخبرني مَن سَمِعَ أنسَ بن مالك قال: قال رجل: يا رسول الله، ﴿الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ﴾ [الفرقان: 34] (1)؟! قال: "إنَّ الذي أَمشاهم على أَرجُلِهم قادرٌ أن يَحشُرَهم على وجوهِهم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد إذا جُمع بين الإسنادين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ﴿الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ﴾ [سورة الفرقان: 34] ”جو لوگ اپنے چہروں کے بل محشور کیے جائیں گے (ان کا کیا معاملہ ہے)؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جس (ذات) نے انہیں ان کے پیروں پر چلایا وہ اس پر بھی قادر ہے کہ انہیں ان کے چہروں کے بل اکٹھا کرے۔“
ان دونوں اسناد کو جمع کیا جائے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3560
درجۂ حدیث محدثین: إسناده كسابقه
تخریج حدیث «إسناده كسابقه، والراوي المبهم عن أنس هو أبو داود السَّبيعي الذي في إسناد سابقه. سفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3560] [ترقيم الشركة 3539]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) زاد في المطبوع: كيف يحشرون؟
نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں "كيف يحشرون؟" کے الفاظ زائد ہیں۔
(2) إسناده كسابقه، والراوي المبهم عن أنس هو أبو داود السَّبيعي الذي في إسناد سابقه. سفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند پچھلی سند کی طرح (ضعیف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور حضرت انس سے روایت کرنے والے مبہم راوی وہی "ابو داود سبیعی" ہیں جو پچھلی سند میں تھے۔ سفیان سے مراد سفیان ثوری ہیں۔
وأخرجه الطبري 19/ 12 من طريق خلاد بن يحيى الكوفي، عن سفيان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری (19/ 12) نے خلاد بن یحییٰ کوفی کے طریق سے سفیان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3560 سے ماخوذ ہے۔