حدیث نمبر: 3551
أخبرني محمد بن موسى بن عِمْران الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثني محمد بن سهل بن عَسكَر، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلْقَمة، عن عبد الله: أنه دَعَا بشراب، فأُتيَ به، فقال: ناوِل القومَ، فقالوا: نحن صِيامٌ، فقال: لكن أنا لستُ بصائمٍ، ثم أَمَره فشربَه، ثم قال: ﴿يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ﴾ [النور: 37] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3509 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پینے کی کوئی چیز منگوائی، جب وہ لائی گئی تو انہوں نے کہا: لوگوں کو پلاؤ، انہوں نے عرض کیا: ہم روزے سے ہیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن میں روزے سے نہیں ہوں، پھر انہوں نے وہ مشروب پی لیا اور (تلاوت کی): ﴿يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ﴾ [سورة النور: 37] ”وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ جائیں گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3551
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي، وعلقمة: هو ابن قيس النخعي، وعبد الله: هو ابن مسعود. وأخرجه النسائي (6816) من طريق زائدة بن قدامة، عن الأعمش، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3551] [ترقيم الشركة 3530] [ترقيم العلميه 3509]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. إبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي، وعلقمة: هو ابن قيس النخعي، وعبد الله: هو ابن مسعود. وأخرجه النسائي (6816) من طريق زائدة بن قدامة، عن الأعمش، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: ابراہیم سے مراد ابراہیم بن یزید نخعی، علقمہ سے مراد ابن قیس نخعی، اور عبد اللہ سے مراد عبد اللہ بن مسعود ہیں۔
حوالہ / مصدر: اور اسے نسائی (6816) نے زائدہ بن قدامہ کے طریق سے، انہوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3551 سے ماخوذ ہے۔