حدیث نمبر: 3504
حدثنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغزّال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا عُمر بن سعيد بن أبي حُسين، أخبرني ابن أبي مُلَيكة، عن عُبَيد بن عُمير، عن ابن عبَّاس قال: أقبلَ تُبَّعٌ يريد الكعبةَ، حتى إذا كان بكُرَاع الغَمِيم بَعَثَ الله عليه ريحًا لا يكادُ القائمُ يقوم إلَّا بمَشَقَّة، ويذهبُ القائم يقعدُ فيُصرَع، وقامت عليه، ولَقُوا منها عَناءً، قال: ودعا تبَّعٌ حَبْرَيهِ، فسألهما: ما هذا الذي بُعِثَ عليَّ؟ قالا: أَوَتؤَمِّنّا؟ قال: أنتم آمنون، قالا: فإنك تريد بيتًا يمنعُه اللهُ ممَّن أراده قال: فما يُذهِبُ هذا عني؟ قالا: تجرَّدْ في ثوبين، ثم تقول: لبَّيكَ لبَّيكَ، ثم تدخل فتطوفُ بذلك البيت، ولا تُهيِّجْ أحدًا من أهله، قال: فإن أجمعتُ على هذا ذَهَبَتْ هذه الريحُ عني، قالا: نعم، فتجرَّدَ ثم لبَّى، قال ابن عبَّاس: فأدبَرَت الريح كقِطَعِ الليل المظلم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3463 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ تبع (یمن کا بادشاہ) کعبہ پر حملے کے ارادے سے نکلا، یہاں تک کہ جب وہ ”کراع الغمیم“ کے مقام پر پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ایسی تند و تیز ہوا بھیجی کہ کھڑا ہونا دشوار ہو گیا، جو کھڑا ہوتا وہ گر جاتا اور انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ تبع نے اپنے دو جید علماء (احبار) کو بلایا اور پوچھا: ”یہ کیسی ہوا مجھ پر بھیجی گئی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کیا آپ ہمیں امان دیتے ہیں؟“ اس نے کہا: ”تمہارے لیے امان ہے۔“ انہوں نے بتایا: ”بے شک آپ اس گھر کا ارادہ کر رہے ہیں جس کا دفاع اللہ خود فرماتا ہے۔“ تبع نے پوچھا: ”تو یہ مصیبت مجھ سے کیسے دور ہوگی؟“ انہوں نے کہا: ”آپ (سلے ہوئے کپڑے اتار کر) صرف دو چادروں میں ملبوس ہو جائیں، پھر کہیں: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ»، پھر مکہ میں داخل ہو کر اس گھر کا طواف کریں اور وہاں کے رہنے والوں کو ہرگز تنگ نہ کریں۔“ تبع نے کہا: ”اگر میں نے ایسا کرنے کا پکا ارادہ کر لیا تو کیا یہ ہوا مجھ سے ہٹ جائے گی؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ چنانچہ اس نے احرام کی چادریں پہن لیں اور تلبیہ پکارا، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ ہوا اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح چھٹ گئی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3504
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن علي الغزال.» [ترقيم الرساله 3504] [ترقيم الشركة 3483] [ترقيم العلميه 3463]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن علي الغزال.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند عبد اللہ بن علی الغزال کی "جہالت" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3720) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (3720) میں حاکم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3504 سے ماخوذ ہے۔