حدیث نمبر: 3467
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا المسعوديُّ، عن عَوْن، عن الأسوَد بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود أنه قرأ ﴿إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [مريم: 87]، قال: اتَّخِذُوا عند الرحمن عهدًا، فإنَّ الله يقول يومَ القيامة: من كان له عندي عهدٌ فليَقُمْ. قال: فقلنا: فعَلِّمْنا يا أبا عبد الرحمن، قال: قولوا: اللهمَّ فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيب والشهادة، إني أَعهدُ إليك في هذه الحياة الدنيا (2)، إنك إنْ تَكِلْني إلى عملٍ (3) تُقرِّبْني من الشرِّ، وتُباعِدْني من الخير، وإني لا أثِقُ إلَّا برحمتِك، فاجعله لي عندَك عهدًا تؤدِّيهِ إليَّ يومَ القيامة، إنك لا تُخلِفُ الميعادَ (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [20 - ومن تفسير سورة طه] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3426 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [سورة مريم: 87] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: تم رحمن کے پاس ایک عہد کر لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: ”جس کا میرے پاس کوئی عہد ہے وہ کھڑا ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! (وہ عہد کیا ہے؟) ہمیں سکھائیں، تو انہوں نے کہا: یوں کہو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، إِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى عَمَلٍ تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تؤدِّيهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ.» ”اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے، میں اس دنیاوی زندگی میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے میرے (نفس کے) عمل کے سپرد کر دیا تو وہ مجھے برائی کے قریب اور خیر سے دور کر دے گا، اور میں صرف تیری رحمت پر ہی بھروسہ کرتا ہوں، پس تو اس اقرار کو میرے لیے اپنے پاس ایک ایسا عہد بنا دے جسے تو قیامت کے دن مجھے پورا کر کے عطا فرمائے، یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3467
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح موقوف
تخریج حدیث «خبر صحيح موقوف، وهذا إسناد منقطع بين عون» [ترقيم الرساله 3467] [ترقيم الشركة 3446] [ترقيم العلميه 3426]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) زاد هنا في المطبوع: بأني أشهد أن لا إله إلَّا أنت وحدك لا شريك لك، وأنَّ محمدًا عبدك ورسولك. ووقعت هذه الزيادة أيضًا في "مسند أحمد" وحده من بين مصادر التخريج.
فنی نکتہ / علّت: (2) یہاں مطبوعہ میں یہ اضافہ ہے: "بأني أشهد..." (میں گواہی دیتا ہوں...)۔ یہ اضافہ مصادر تخریج میں سے صرف "مسند احمد" میں موجود ہے۔
(3) في المطبوع وكذا في مصادر التخريج: إلى نفسي.
فنی نکتہ / علّت: (3) مطبوعہ اور مصادر تخریج میں "إلی نفسی" (میری جان کی طرف) کے الفاظ ہیں۔
(4) خبر صحيح موقوف، وهذا إسناد منقطع بين عون - وهو ابن عبد الله بن عتبة بن مسعود - وبين الأسود بن يزيد بينهما فيه أبو فاختة سعيد بن علاقة، وهو ثقة.
درجۂ حدیث: (4) یہ خبر موقوفاً "صحیح" ہے، لیکن یہ سند "منقطع" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عون (بن عبد اللہ) اور اسود بن یزید کے درمیان "ابو فاختہ سعید بن علاقہ" کا واسطہ چھوٹا ہوا ہے، اور ابو فاختہ "ثقہ" ہیں۔
فقد أخرجه ابن أبي شيبة 10/ 329 عن وكيع، والطبراني (8919) وعنه أبو نعيم في "الحلية" 4/ 271 من طريق عبد الله بن رجاء وعاصم بن علي، ثلاثتهم عن المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة - عن عون بن عبد الله، عن أبي فاختة، عن الأسود بن يزيد، عن ابن مسعود. والمسعودي - وإن كان قد اختلط - رواية وكيع وعبد الله بن رجاء عنه قبل الاختلاط. وأخرجه أحمد (7/ 3916) من طريق حماد بن سلمة، عن سهيل بن أبي صالح وعبد الله بن عثمان بن خيثم، عن عون بن عبد الله، عن ابن مسعود مرفوعًا. وهذا إسناد معضل، ورفعُه شاذٌّ والمحفوظ أنه موقوف.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (10/ 329) نے وکیع سے، طبرانی (8919) اور ابو نعیم نے "الحلیہ" (4/ 271) میں عبد اللہ بن رجاء اور عاصم بن علی سے، ان تینوں نے مسعودی سے روایت کیا ہے جس میں عون اور اسود کے درمیان "ابو فاختہ" موجود ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: مسعودی اگرچہ "مختلط" ہو گئے تھے، مگر وکیع اور عبد اللہ بن رجاء کی روایت ان سے اختلاط سے پہلے کی ہے۔
نوٹ / توضیح: احمد (7/ 3916) نے اسے حماد بن سلمہ کے طریق سے عون عن ابن مسعود "مرفوعاً" نکالا ہے، جو کہ "معضل" (دو راوی غائب) ہے، اور اس کا رفع "شاذ" ہے، محفوظ یہ ہے کہ یہ "موقوف" ہے۔
وقد أخرجه موقوفًا أيضًا محمد بن فضيل الضبِّي في "الدعاء" (51) من طريق القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن جده عبد الله بن مسعود والقاسم ثقة إلّا أنَّ روايته عن جده مرسلة.
حوالہ / مصدر: اسے محمد بن فضیل الضبی نے "الدعاء" (51) میں قاسم بن عبد الرحمٰن کے طریق سے اپنے دادا ابن مسعود سے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قاسم "ثقہ" ہیں مگر اپنے دادا سے ان کی روایت "مرسل" (منقطع) ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3467 سے ماخوذ ہے۔