المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ : ( لَوْلَا أَنْ رَأَىَ بُرْهَانَ رَبِّهِ ) باب: آیت “اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا” کی تفسیر
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا موسى بن عُليِّ بن رَبَاح، عن أبيه قال: استَأذنَ رجلٌ على عمر فقال: استأذِنوا لابن الأخيار، فقال عمر: ائذَنوا لابن الأخيار، فلما دخل قال له عمر: من أنت؟ قال: أنا فلانُ بنُ فلان بنِ فلان، قال: فجعل يَعُدُّ رجالًا من أشراف الجاهلية، فقال له عمر: أنت يوسفُ بنُ يعقوبَ بن إسحاقَ بنِ إبراهيم؟ قال: لا، قال: ذاك ابنُ الأخيارِ، وأنت ابنُ الأشرار، إنما تعدُّ عليَّ رجالَ أهل النار (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلمموسی بن علی بن رباح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور (دربان سے) کہا: ”بہترین لوگوں کے بیٹے کے لیے اجازت طلب کرو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس بہترین لوگوں کے بیٹے کو اندر آنے کی اجازت دے دو۔“ جب وہ اندر آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں۔“ وہ دور جاہلیت کے معزز لوگوں میں سے اپنے آباؤ اجداد گننے لگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”وہ (سیدنا یوسف علیہ السلام) ہیں بہترین لوگوں کے بیٹے، جبکہ تم تو بدترین لوگوں کے بیٹے ہو، تم میرے سامنے جہنمیوں کے نام گنوا رہے ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن رباح کبار تابعین میں سے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے؛ محمد بن سنان القزاز میں اختلاف ہے اور وہ اس میں منفرد ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور علی بن رباح نے عمر بن خطاب سے سماع نہیں کیا (نہیں پایا)، کیونکہ وہ مغرب (مراکش وغیرہ) میں حضرت عمر کی خلافت کے آخر یا حضرت عثمان کی خلافت کے شروع میں پیدا ہوئے۔
نوٹ / توضیح: ابوعامر العقدی: یہ عبدالملک بن عمرو ہیں۔