المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تطليق رافع بن خديج زوجته ونزول الآية باب: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا اپنی بیوی کو طلاق دینا اور آیت کا نازل ہونا
حدیث نمبر: 3246
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى، حدثنا عبد الله بن الوليد، حدثنا سفيان، عن أبي حَصِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ [النساء:159]، قال: خروجُ عيسى ابنِ مريمَ صلوات الله عليه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3207 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ ”اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے“ [سورة النساء: 159] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد سیدنا عیسیٰ بن مریم صلوات اللہ علیہ کا (آخری زمانے میں) تشریف لانا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي. سفيان: هو الثوري، وأبو حصين: هو عثمان بن عاصم الأسدي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، اور ابو حصین سے مراد ’عثمان بن عاصم الاسدی‘ ہیں۔
وهو عند أبي حذيفة النهدي في "تفسير سفيان الثوري" عنه (229).
حوالہ / مصدر: یہ ابو حذیفہ النہدی کے ہاں "تفسیر سفیان الثوری" میں ان سے روایت نمبر (229) پر ہے۔
وقال فيه مكان قوله: "خروج عيسى": قبل موت عيسى، ومن طريق أبي حذيفة أخرجه الضياء المقدسي في "المختارة" 10/ (250).
نوٹ / توضیح: اور اس میں "خروج عیسیٰ" کی جگہ "قبل موت عیسیٰ" کے الفاظ کہے ہیں۔ اور ابو حذیفہ کے طریق سے اسے ضیاء المقدسی نے "المختارة" 10/ (250) میں تخریج کیا ہے۔
وأخرجه كذلك الطبري في "تفسيره" 6/ 18، وكذا ابن أبي حاتم 4/ 1114 من طريق عبد الرحمن ابن مهدي ووكيع، عن سفيان، به.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 6/ 18 میں، اور اسی طرح ابن ابی حاتم نے 4/ 1114 میں عبدالرحمن بن مہدی اور وکیع کے طریق سے، انہوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، اور ابو حصین سے مراد ’عثمان بن عاصم الاسدی‘ ہیں۔
وهو عند أبي حذيفة النهدي في "تفسير سفيان الثوري" عنه (229).
حوالہ / مصدر: یہ ابو حذیفہ النہدی کے ہاں "تفسیر سفیان الثوری" میں ان سے روایت نمبر (229) پر ہے۔
وقال فيه مكان قوله: "خروج عيسى": قبل موت عيسى، ومن طريق أبي حذيفة أخرجه الضياء المقدسي في "المختارة" 10/ (250).
نوٹ / توضیح: اور اس میں "خروج عیسیٰ" کی جگہ "قبل موت عیسیٰ" کے الفاظ کہے ہیں۔ اور ابو حذیفہ کے طریق سے اسے ضیاء المقدسی نے "المختارة" 10/ (250) میں تخریج کیا ہے۔
وأخرجه كذلك الطبري في "تفسيره" 6/ 18، وكذا ابن أبي حاتم 4/ 1114 من طريق عبد الرحمن ابن مهدي ووكيع، عن سفيان، به.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 6/ 18 میں، اور اسی طرح ابن ابی حاتم نے 4/ 1114 میں عبدالرحمن بن مہدی اور وکیع کے طریق سے، انہوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3246 سے ماخوذ ہے۔