المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ : ( لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ) باب: آیت “نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ” کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3243
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا عمّار بن رُزَيق، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ﴾ [النساء: 127]، في أول هذه السورة من المَواريث، كانوا لا يُورِّثون صبيًّا حتى يَحتلِمَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3204 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ﴾ ”اور جو کتاب میں تمہیں ان یتیم عورتوں کے بارے میں پڑھ کر سنایا جاتا ہے“ [سورة النساء: 127] کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد اس سورہ کے شروع میں مذکور وراثت کے احکام ہیں، کیونکہ (زمانہ جاہلیت میں) لوگ کسی بچے کو اس وقت تک وارث نہیں بناتے تھے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي أبو الجوّاب: هو الأحوص بن جوّاب.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الجواب سے مراد ’الاحوص بن جواب‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 6/ 263 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 6/ 263 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الجواب سے مراد ’الاحوص بن جواب‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 6/ 263 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 6/ 263 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3243 سے ماخوذ ہے۔