المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ : ( لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ) باب: آیت “نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ” کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3241
أخبرني إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حَجَّاج بن محمد قال: قال ابن جُرَيج: أخبرني يَعلَى بن مُسلِم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى﴾ [النساء: 102]، قال: نزلت في عبد الرحمن بن عَوْف كان جريحًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3202 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى﴾ ”اگر تمہیں بارش کی وجہ سے کوئی تکلیف ہو یا تم بیمار ہو“ [سورة النساء: 102] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہ آیت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ وہ زخمی تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفرج -وهو أبو بكر الأزرق- وقد توبع. وأخرجه البخاري (4599)، والنسائي (11056) من طرق عن حجاج بن محمد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند محمد بن الفرج (ابو بکر الازرق) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (4599) اور نسائی نے (11056) میں حجاج بن محمد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛
اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند محمد بن الفرج (ابو بکر الازرق) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (4599) اور نسائی نے (11056) میں حجاج بن محمد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛
اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3241 سے ماخوذ ہے۔