المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا باب: جنت میں کوڑے کے برابر جگہ بھی دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے
أخبرنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهانَ على الصَّفَا، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد المكِّي، حدثنا يعقوب بن حُميد، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن عمرو بن دينار، عن سَلَمة بن أبي سَلَمة -رجل من وَلَد أم سلمة- عن أم سَلَمة أنها قالت: يا رسول الله، لا أَسْمَعُ اللهَ ذَكَرَ النساء في الهجرة بشيء! فأنزل الله ﷿: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ﴾ [آل عمران: 195] (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3174 - على شرط البخاريسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اللہ تعالیٰ کو ہجرت کے تذکرے میں عورتوں کا (اس طرح) ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا (جیسے مردوں کا ذکر ہے)! تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ﴾ ”تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم ایک دوسرے میں سے ہی ہو“ [سورة آل عمران: 195]۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
(امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابواحمد حافظ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ بخاری کی کتاب میں دو حدیثیں ہیں جن میں یعقوب نامی راوی سفیان اور دراوردی سے روایت کرتا ہے، ابواحمد کے نزدیک وہ یعقوب بن حمید ہی ہیں، واللہ اعلم)۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند حسن ہے؛
فنی نکتہ / علّت: یعقوب بن حمید کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ سلمہ بن ابی سلمہ کی نسبت اسی طرح ان کے پردادا (جدِّ اَبیہ) کی طرف کی گئی ہے، اور وہ ’سلمہ بن عبداللہ بن عمر بن ابی سلمہ‘ ہیں، ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (3023) عن ابن أبي عمر العَدَني، عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وانظر ما سيأتي برقم (3602).
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے (3023) میں ابن ابی عمر العدنی سے، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو آگے نمبر (3602) پر آئے گا۔