المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا باب: جنت میں کوڑے کے برابر جگہ بھی دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 3209
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله الدَّقاق ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا أبو بدر شُجاع بن الوليد، حدثنا محمد بن عمرو ابن عَلْقمة، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ موضعَ سَوْطٍ في الجنة لخيرٌ من الدنيا وما فيها" اقرؤوا إن شئتم: ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ [آل عمران: 185] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3170 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب سے بہتر ہے“ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ ”پس جسے آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ یقیناً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے“ [سورة آل عمران: 185]۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 15 / (9651)، والترمذي (3013) و (3292)، والنسائي (11019)، وابن حبان (7417) من طرق عن محمد بن عمرو، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 15/ (9651)، ترمذی نے (3013) اور (3292)، نسائی نے (11019)، اور ابن حبان نے (7417) میں محمد بن عمرو کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بمعناه أحمد 13/ (8167) و 16 / (10260) و (10270)، والبخاري (2793) و (3253)، وابن حبان (6158) و (7418) من طرق عن أبي هريرة.
حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم کے ساتھ احمد نے 13/ (8167) اور 16/ (10260) اور (10270) میں، بخاری نے (2793) اور (3253) میں، اور ابن حبان نے (6158) اور (7418) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے مختلف طرق سے تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 15 / (9651)، والترمذي (3013) و (3292)، والنسائي (11019)، وابن حبان (7417) من طرق عن محمد بن عمرو، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 15/ (9651)، ترمذی نے (3013) اور (3292)، نسائی نے (11019)، اور ابن حبان نے (7417) میں محمد بن عمرو کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بمعناه أحمد 13/ (8167) و 16 / (10260) و (10270)، والبخاري (2793) و (3253)، وابن حبان (6158) و (7418) من طرق عن أبي هريرة.
حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم کے ساتھ احمد نے 13/ (8167) اور 16/ (10260) اور (10270) میں، بخاری نے (2793) اور (3253) میں، اور ابن حبان نے (6158) اور (7418) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے مختلف طرق سے تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3209 سے ماخوذ ہے۔