المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
نَفَقَتُكَ عَلَى أَهْلِكَ وَوَلَدِكَ وَخَادِمِكَ صَدَقَةٌ باب: اپنے اہل، اولاد اور خادم پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
حدثنا أحمد بن سهل بن حَمدَوَيهِ الفقيه ببُخارَي، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: أَمر النبيُّ ﷺ بزكاة الفِطْر بصاعٍ من تمر، فجاء رجل بتمرٍ رديءٍ، فقال النبي ﷺ لعبد الله بن رَوَاحة: "لا تَخرُصُ هذا التمر"، فنزل القرآن: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [البقرة: 267] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3122 - على شرط مسلمسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور ادا کرنے کا حکم دیا، تو ایک شخص ردی کھجوریں لے آیا، نبی کریم ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ان کھجوروں کا اندازہ (بطور زکوٰۃ) نہ کرو“، تب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ ”اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے خرچ کرو اور اس میں سے گھٹیا چیز (اللہ کی راہ میں) دینے کا ارادہ نہ کرو۔“ [سورة البقرة: 267]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ’لین‘ (کمزور/نرم) ہے؛
فنی نکتہ / علّت: حاتم بن اسماعیل - اگرچہ مجموعی طور پر ثقہ ہیں - لیکن ابن المدینی نے جعفر بن محمد (جو ابن علی بن الحسین ہیں، جن کا لقب صادق ہے) سے ان کی احادیث پر کلام کیا ہے، اور کہا: انہوں نے جعفر سے، انہوں نے اپنے والد سے مرسل احادیث روایت کی ہیں اور انہیں مسند (متصل) بنا دیا ہے۔ اور احمد نے فرمایا: لوگوں کا خیال ہے کہ حاتم میں غفلت تھی۔ رہا معاملہ قیس بن انیف کا، تو ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ان پر کوئی جرح یا تعدیل منقول نہیں، لیکن ان کی مرویات کے مجموعے میں ان کی متابعت کی گئی ہے، تو ان شاء اللہ وہ صالح اور حسن الحدیث ہیں۔
وأخرجه الواحدي في "أسباب النزول" (172) من طريق محمد بن عبد الله بن نُعيم -وهو الحاكم- بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے "أسباب النزول" (172) میں محمد بن عبداللہ بن نعیم (جو کہ حاکم ہیں) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔