حدیث نمبر: 3137
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعبة، عن بُكَير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يَعمَر الدِّيلي قال: قال رسول الله ﷺ: "الحجُّ عَرَفةُ -أو عَرَفات- فمَن أدرَكَ عرفةَ قبلَ طلوع الفجر، فقد أدركَ الحجَّ، أيامُ مِنى ثلاثٌ؛ فمن تَعجَّلَ في يومين فلا إثمَ عليه، ومن تأخَّرَ فلا إثمَ عليه" (3).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3100 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حج (کی اصل بنیاد) عرفہ -یا عرفات- میں قیام کرنا ہے، چنانچہ جس شخص نے طلوعِ فجر سے پہلے عرفہ کو پا لیا تو اس نے حج کو پا لیا، منیٰ میں قیام کے دن تین ہیں؛ پس جو دو دنوں میں جلدی کر کے واپس چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3137
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب، وقد توبع. وأخرجه أحمد 31 / (18773) و (18775)، والنسائي (4166) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (1721).» [ترقيم الرساله 3137] [ترقيم الشركة 3118] [ترقيم العلميه 3100]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب، وقد توبع. وأخرجه أحمد 31 / (18773) و (18775)، والنسائي (4166) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (1721).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند یحییٰ بن ابی طالب کی وجہ سے ’قوی‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 31/ (18773) اور (18775)، اور نسائی نے (4166) میں شعبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو پیچھے نمبر (1721) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3137 سے ماخوذ ہے۔