المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا عَلِمَ باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اسی طرح پڑھے جس طرح اسے سکھایا گیا
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا أبو عِمران الجَوْني، عن جُندُب قال: أتيتُ المدينة لأتعلَّمَ العلمَ، فلما دخلتُ مسجدَ رسول الله ﷺ إذا الناسُ فيه حَلَقٌ يتحدَّثون، قال: فجعلتُ أَمضي حتى انتهيتُ إلى حَلْقَةٍ فيها رجل شاحبٌ عليه ثوبانِ كأنما قَدِمَ من سفر، فسمعتُه يقول: هَلَكَ أصحابُ العَقْدِ وربِّ الكعبة، ولا آسَى عليهم - يقولها ثلاثًا - هَلَكَ أصحابُ العَقْد وربِّ الكعبة، هَلَكَ أصحابُ العَقْد وربِّ الكعبة (1)، قال: فجلستُ إليه فتحدَّث ما قُضِيَ له، ثم قام، فسألتُ عنه، فقالوا: هذا سيِّدُ الناس أُبيُّ بن كعب. قال: فتبعتُه إلى منزله، فإذا هو رَثُّ المنزل، رَثُّ الكِسْوة، رثُّ الهيئة، يُشبِهُ أمرُه بعضُه بعضًا، فسلَّمتُ عليه، فردَّ عليَّ السلامَ، قال: ثم سألني: ممَّن أنت؟ قال: قلت: من أهل العراق قال: أكثرُ شيءٍ سؤالًا، وغَضِبَ، قال: فاستقبلتُ القِبلةَ، ثم جَثَوتُ على ركبتيَّ ورفعتُ يديَّ هكذا - ومدَّ ذراعيه - فقلت: اللهمَّ إنا نَشكُوهم إليك، إنا نُنفِقُ نَفَقاتِنا ونُنصِبُ أبدانَنا، ونَرحَلُ مَطَايانا ابتغاءَ العلم، فإذا لَقِيناهم تَجهَّموا لنا، وقالوا لنا، قال: فبَكَى أُبيٌّ وجعل يترضَّاني، ويقول: وَيحَك، إني لم أَذهب هناك، ثم قال أُبيّ: أعاهدُك لَئِن أَبقَيتَني إلى يوم الجمعة لأتكلَّمَنَّ بما سمعتُ من رسول الله ﷺ، لا أخافُ فيه لومةَ لائم، قال: ثم انصرفتُ عنه وجعلت أنتظرُ يومَ الجمعة، فلما كان يومُ الخميس خرجتُ لبعض حاجتي، فإذا الطريقُ مملوءةٌ من الناس لا آخُذُ فِي سِكَّة إلّا استقبَلَني الناسُ، قال: فقلت: ما شأنُ الناس؟ قالوا: إنا نَحسَبُك غريبًا، قال: قلت: أجل، قالوا: مات سيدُ الناس أبيُّ بن كعب، قال: فلَقِيتُ أبا موسى بالعراق فحدَّثتُه، فقال: هلَّا كان يبقى حتى تَبلُغَنا مَقَالتُه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2892 - على شرط مسلمسیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں علم حاصل کرنے کے لیے مدینہ منورہ آیا، جب میں رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ حلقوں میں بیٹھے علمی گفتگو کر رہے ہیں، میں آگے بڑھا تو ایک ایسے حلقے تک پہنچا جس میں ایک پیلی رنگت والے صاحب تھے جن پر دو چادریں تھیں اور وہ کسی مسافر کی طرح لگ رہے تھے، میں نے انہیں تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا: ”کعبہ کے رب کی قسم! عہد و پیمان والے (اربابِ اقتدار) ہلاک ہو گئے، اور مجھے ان پر کوئی افسوس نہیں ہے“، میں ان کے پاس بیٹھ گیا، جب وہ اپنی گفتگو مکمل کر کے اٹھے تو میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا، لوگوں نے بتایا: یہ لوگوں کے سردار سیدنا ابی بن کعب ہیں۔ میں ان کے پیچھے ان کے گھر تک گیا، تو دیکھا کہ ان کا گھر، لباس اور ظاہری حالت سب انتہائی سادہ اور شکستہ تھی، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا، پھر مجھ سے پوچھا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے کہا: میں اہل عراق میں سے ہوں، اس پر وہ غصے میں آ گئے اور فرمایا: (اہلِ عراق) بہت زیادہ سوالات کرنے والے ہیں، میں نے قبلہ رخ ہو کر اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہاتھ بلند کیے اور عرض کی: اے اللہ! ہم ان (علماء) کی شکایت تیرے پاس لائے ہیں، ہم علم کی طلب میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنے بدن تھکاتے ہیں اور سفر کی مشقتیں اٹھاتے ہیں، لیکن جب ہم ان سے ملتے ہیں تو یہ ہم سے ترش روئی سے پیش آتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا ابی بن کعب رونے لگے اور مجھے راضی کرنے لگے، اور کہنے لگے: میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میں جمعہ تک زندہ رہا تو میں وہ بات ضرور بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور اس میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کروں گا، پھر میں وہاں سے چلا گیا اور جمعہ کا انتظار کرنے لگا، جب جمعرات کا دن آیا تو میں نے دیکھا کہ مدینہ کی گلیاں لوگوں سے بھری ہوئی ہیں، میں نے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: تم شاید اجنبی ہو، لوگوں کے سردار ابی بن کعب کا انتقال ہو گیا ہے، پھر جب میں عراق میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے ملا اور انہیں یہ واقعہ سنایا تو انہوں نے فرمایا: کاش وہ زندہ رہتے یہاں تک کہ ان کی وہ بات ہم تک پہنچ جاتی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
لغوی تشریح: "اصحاب العقد" سے مراد "امراء/حکمران" ہیں، کیونکہ لوگ ان کے لیے امارت اور حکومت کی بیعت کا "عقد" (معاہدہ) باندھتے ہیں۔
(2) إسناده جيد. أبو عمران الجوني: هو عبد الملك بن حبيب.
درجۂ اسناد: اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔ ابو عمران الجونی سے مراد "عبدالملک بن حبیب" ہیں۔
وسيأتي الحديث مختصرًا برقم (5411) من طريق أبي قلابة عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرقاشي عن أبيه.
حوالہ: یہ حدیث آگے مختصر طور پر نمبر (5411) پر ابو قلابہ عبدالملک بن محمد بن عبداللہ الرقاشی عن ابیہ کے طریق سے آئے گی۔
وأخرجه بطوله ابن سعد في "الطبقات" 3/ 465، وعبد الله بن أحمد في زياداته على "الزهد"
لأبيه (1162)، وأبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "المطالب العالية" (3080)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 7/ 341 و 342 من طرق عن جعفر بن سليمان الضُّبَعي، به.
حوالہ / تخریج: اسے طویل شکل میں ابن سعد (الطبقات 3/ 465)، عبداللہ بن احمد (زوائد الزہد 1162)، ابویعلیٰ (المطالب العالیہ 3080)، اور ابن عساکر (تاریخ دمشق 7/ 341، 342) نے جعفر بن سلیمان الضبعی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج هذه القصة باختصارٍ ابنُ سعد 3/ 464، ومن طريقه ابن عساكر 7/ 340 عن روح بن عبادة وهُوذة بن خليفة، عن عوف بن أبي جميلة، عن الحسن البصري قال: أخبرنا عُتَيُّ بن ضَمْرة قال: قلت لأُبي بن كعب: ما لكم أصحابَ رسول الله ﷺ نأتيكم من البُعْد … فذكر نحوها. فجعل القصة لعُتي بن ضمرة مع أُبي، وعُتيٌّ تابعي كبير، والسند إليه صحيح، أما جعفر بن سليمان فجعل القصة لجندب مع أُبي، وجندب الذي يروي عنه أبو عمران الجوني: هو جندب بن عبد الله البجلي، وهو من صغار الصحابة، والقلب إلى حديث الحسن البصري أميَل، فلعلَّ جعفرًا وهم في تسمية صاحب القصة مع أُبي، أو أن يكون كلاهما كان حاضرًا، والله تعالى أعلم.
تحقیق و تطبیق: ابن سعد (3/ 464) اور ابن عساکر (7/ 340) نے اسے مختصراً روح بن عبادہ اور ہوذہ بن خلیفہ عن عوف عن الحسن البصری عن عتی بن ضمرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس میں یہ قصہ عتی بن ضمرہ کا حضرت ابی بن کعب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ عتی ایک کبار تابعی ہیں اور ان تک سند صحیح ہے۔ جبکہ جعفر بن سلیمان نے یہ قصہ "جندب" کا ابی کے ساتھ بتایا ہے (جندب بن عبداللہ بجلی، صغار صحابہ میں سے)۔ میرا رجحان حسن بصری والی روایت کی طرف زیادہ ہے، شاید جعفر کو نام میں وہم ہوا، یا ہو سکتا ہے دونوں حضرات وہاں موجود ہوں۔ واللہ اعلم۔
وانظر ما سلف برقم (873).
حوالہ: سابقہ نمبر (873) دیکھیں۔