حدیث نمبر: 2715
أخبرني أبو الحُسين محمدُ بن أحمد بن تَميم الحنْظَلِي ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: سئل النبيُّ ﷺ: أيُّ النساء خيرٌ؟ فقال: "خيرُ النساء مَن تَسُرُّ إذا نَظَر، وتُطيعُ إِذا أمَر، ولا تُخالِفُه في نفسِها ومالِها" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین عورت وہ ہے کہ جب (شوہر) اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، جب وہ اسے کسی کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت کرے، اور اپنی ذات اور شوہر کے مال کے معاملے میں اس کی منشا کے خلاف کام نہ کرے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2715
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل أبي الحسين محمد بن أحمد بن تَميم، وقد توبع في الإسناد التالي. أبو عاصم: هو الضحاك بن مَخلَد.» [ترقيم الرساله 2715] [ترقيم الشركة 2697]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل أبي الحسين محمد بن أحمد بن تَميم، وقد توبع في الإسناد التالي. أبو عاصم: هو الضحاك بن مَخلَد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "قوی" ہے اور یہ سند ابو الحسین محمد بن احمد بن تمیم کی وجہ سے "حسن" ہے۔
متابعات و شواہد: اگلی سند میں اس کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ابو عاصم" سے مراد ضحاک بن مخلد النبیل ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2715 سے ماخوذ ہے۔