المستدرك على الصحيحين
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ فَإِنَّهُنَّ يَأْتِينَكُمْ بِالْمَالِ . باب: عورتوں سے نکاح کرو، وہ تمہارے لیے مال و رزق کا سبب بنتی ہیں
حدیث نمبر: 2713
أخبرنا محمّد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا خالد بن مَخْلد، حدثني محمد بن موسى، عن سعد بن إسحاق ابن كعب بن عُجْرة، عن عمّته، قالت: حدثني أبو سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "تُنكَحُ المرأةُ على إحدى خِصالٍ ثلاثٍ: تُنكَح المرأةُ على جَمالِها، وتُنكَح المرأة على دِينها وخُلُقها، فعليكَ بذات الدِّين تَرِبَتْ يَمينُك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2680 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت سے نکاح تین خصلتوں میں سے کسی ایک کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، یا اس کے دین اور عمدہ اخلاق کی وجہ سے؛ پس تم دین دار عورت کو لازم پکڑو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں (تمہارا بھلا ہو)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس زیادتی کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خالد بن مخلد - وهو القَطَواني - صدوق، وقد توبع، وعمّة سعد: هي زينب بنت كعب بن عجرة، زوجة أبي سعيد الخدري، روى عنها ابنا أخويها، وذكرها ابن حبان في "الثقات". محمد بن موسى: هو الفِطْري.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کی یہ سند "حسن" ہے۔
راویوں کی پہچان: خالد بن مخلد القٹوانی "صدوق" ہیں، سعد کی پھوپھی "زینب بنت کعب بن عجرہ" ہیں جو حضرت ابوسعید خدری کی زوجہ تھیں، امام ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں شمار کیا ہے۔ محمد بن موسیٰ "الفطری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 18/ (11765) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن محمد بن موسى، بهذا الإسناد. وزاد فيه ذكر المال.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (18/11765) پر عبد الرحمن بن مہدی عن محمد بن موسیٰ کی سند سے روایت کیا ہے اور اس میں "مال" کا تذکرہ بھی زیادہ ہے۔
(2) يعني زيادة ذكر الخُلُق، وذلك أنَّ هذا الحديث رواه أيضًا أبو هريرة عند البخاري (5090)، ومسلم (1466) وغيرهما، وكذلك رواه جابر بن عبد الله عند مسلم (1466) (54) وغيره، بذكر الدّين دون الخُلُق. وزادا فيه خصلة رابعة: وهي الحَسَب؛ يعني شرف نسبها.
وضاحتِ متن: یہاں "خلق" (اخلاق) کے ذکر کا اضافہ ہے، جبکہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت جابر کی روایات میں صرف "دین" کا ذکر ہے، اخلاق کا نہیں۔ ان روایات میں چوتھی خصلت "حسب" (خاندانی شرافت) کا بھی ذکر ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کی یہ سند "حسن" ہے۔
راویوں کی پہچان: خالد بن مخلد القٹوانی "صدوق" ہیں، سعد کی پھوپھی "زینب بنت کعب بن عجرہ" ہیں جو حضرت ابوسعید خدری کی زوجہ تھیں، امام ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں شمار کیا ہے۔ محمد بن موسیٰ "الفطری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 18/ (11765) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن محمد بن موسى، بهذا الإسناد. وزاد فيه ذكر المال.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (18/11765) پر عبد الرحمن بن مہدی عن محمد بن موسیٰ کی سند سے روایت کیا ہے اور اس میں "مال" کا تذکرہ بھی زیادہ ہے۔
(2) يعني زيادة ذكر الخُلُق، وذلك أنَّ هذا الحديث رواه أيضًا أبو هريرة عند البخاري (5090)، ومسلم (1466) وغيرهما، وكذلك رواه جابر بن عبد الله عند مسلم (1466) (54) وغيره، بذكر الدّين دون الخُلُق. وزادا فيه خصلة رابعة: وهي الحَسَب؛ يعني شرف نسبها.
وضاحتِ متن: یہاں "خلق" (اخلاق) کے ذکر کا اضافہ ہے، جبکہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت جابر کی روایات میں صرف "دین" کا ذکر ہے، اخلاق کا نہیں۔ ان روایات میں چوتھی خصلت "حسب" (خاندانی شرافت) کا بھی ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2713 سے ماخوذ ہے۔