المستدرك على الصحيحين
كتاب قسم الفيء— قرآن پاک سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم ثابت ہے
دُعَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَافَ قَوْمًا باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی دعا جب آپ کو کسی قوم سے خطرہ ہوتا
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عمر بن حفص بن غِياث، حدثنا أبي، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: كان رجلٌ من الأنصار أسلم ثم ارتدّ، فلحِق بالمشركين، ثم ندم فأرسل إلى قومه: أن سَلُوا رسولَ الله ﷺ هل لي مِن توبةٍ؟ قال: فنزلت: ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ﴾ إلى قوله: ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [آل عمران: 86 - 89]، قال: فأرسل إليه قومُه فأسلَمَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2628 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص مسلمان ہوا پھر مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا، پھر وہ نادم ہوا اور اپنی قوم کو پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھو: کیا میری توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ تو یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ﴾ ”اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو اپنے ایمان کے بعد کافر ہو گئے۔“ یہاں تک کہ فرمایا: ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ ”مگر وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کر لی اور اپنی اصلاح کر لی، تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ [آل عمران: 86 - 89]، راوی کہتے ہیں: تو اس کی قوم نے اسے پیغام بھیجا اور وہ (دوبارہ) مسلمان ہو گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد (4/ 2218) عن علي بن عاصم، والنسائي (3517) و (10999)، وابن حبان (4477) من طريق يزيد بن زُريع، كلاهما عن داود بن أبي هند، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے علی بن عاصم سے اور نسائی و ابن حبان نے یزید بن زریع کے طریق سے، دونوں نے داؤد بن ابی ہند کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔