حدیث نمبر: 2285
أخبرني عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو الوليد الطَّيالِسي وعَفّان بن مسلم ومسلم بن إبراهيم، قالوا: حدثنا هشام بن أبي عبد الله، حدثنا قَتَادة، عن الحسن، عن سمُرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "أيُّما رجلٍ باع بيعًا مِن رجلٍ أو رجلَين، فهو للأول منهما، وأيُّما امرأةٍ زَوَّجها وَليّانِ، فهي للأول منهما" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2254 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی چیز ایک یا دو آدمیوں کے ہاتھ فروخت کی تو وہ پہلے خریدار کی ہوگی، اور جس عورت کا نکاح دو ولیوں نے (الگ الگ) کر دیا تو وہ پہلے شوہر کی ہوگی۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2285
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وسماع الحسن - وهو البصري - من سَمُرة - وهو ابن جُندب - صحيح، كما بيناه عند الحديث السالف برقم (151). وقد صحَّحَ هذا الحديثَ أبو زرعة وأبو حاتم، كما في "البدر المنير" لابن الملقن 7/ 590، وانتقاه ابنُ الجارود (622)، وحسّنه الترمذي.» [ترقيم الرساله 2285] [ترقيم الشركة 2267] [ترقيم العلميه 2254]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، وسماع الحسن - وهو البصري - من سَمُرة - وهو ابن جُندب - صحيح، كما بيناه عند الحديث السالف برقم (151). وقد صحَّحَ هذا الحديثَ أبو زرعة وأبو حاتم، كما في "البدر المنير" لابن الملقن 7/ 590، وانتقاه ابنُ الجارود (622)، وحسّنه الترمذي.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے اور حسن بصری کا سمرہ بن جندب سے سماع ثابت ہے
حکم / درجۂ حدیث: ابوذرعہ، ابوحاتم اور ابن الجارود نے اسے صحیح قرار دیا ہے جبکہ ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20116) و (20141) و (20208)، وأبو داود (2088)، والنسائي (5376) و (5377) من طرق عن هشام، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (33/ 20116)، ابوداؤد (2088) اور نسائی نے ہشام کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (20085) و (20263)، وأبو داود (2088) من طريق حماد بن سلمة، وأحمد (20090) و (20121)، وأبو داود (2088)، وابن ماجه (2344) من طريق همام بن يحيى، كلاهما عن قتادة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن ماجہ (2344) نے حماد بن سلمہ اور ہمام بن یحییٰ عن قتادہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2754) من طريق معاذ بن هشام عن أبيه.
متابعات و شواہد: یہ روایت آگے نمبر (2754) پر معاذ بن ہشام کے طریق سے آئے گی۔
وبرقم (2755) من طريق سعيد بن أبي عَروبة، وبرقم (2756) من طريق سعيد بن بَشير، كلاهما عن قتادة.
متابعات و شواہد: نیز نمبر (2755) اور (2756) پر سعید بن ابی عروبہ اور سعید بن بشیر کے طریق سے بھی آئے گی۔
وبرقم (2757) من طريق أشعث بن عبد الملك الحُمْراني عن الحسن البصري.
متابعات و شواہد: اور نمبر (2757) پر اشعث بن عبدالملک عن الحسن کے طریق سے مروی ہے۔
وقال البيهقي في "السنن الكبرى" 10/ 139: للأول حق السبق، والسبق أصل في الشريعة.
اہم نکتہ: امام بیہقی فرماتے ہیں کہ پہلے کا حق سبقت ہے، اور سبقت شریعت میں ایک اہم اصول ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2285 سے ماخوذ ہے۔