حدیث نمبر: 2262
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُسْتُم الأصبَهاني، حدثنا المُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا شعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو أحمد بن أبي الحسن، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بشر بن خالد العسكري، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سماك بن حَرْب، قال: سمعتُ أبا صفوان يقولُ: بِعتُ من النبيِّ ﷺ سَراويلَ، فَوَزَنَ لي فأرجَحَ (1). أبو صفوان كنية سويد بن قيس، هما واحدٌ من صحابيِّي الأنصارِ، والحديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ ایک پاجامہ فروخت کیا، تو آپ ﷺ نے میرے لیے قیمت کا وزن کروایا اور (وزن کرنے والے کو حکم دے کر) زیادہ تلوایا۔
سوید بن قیس کی کنیت ابو صفوان ہے اور یہ دونوں ایک ہی صحابی ہیں، یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، غير أنَّ شعبة لم يضبط اسم صحابي الحديث، وضبطه سفيانُ الثَّوري كما في الطريق السابقة، وتابع سفيانَ على تسميته سويدَ بن قيس كلٌّ من قيس بن الربيع عند أبي داود الطيالسي (1288)، وشريك النخعي فيما قاله الدارقطني في "العلل" (3391)، وإسرائيل بن يونس السَّبيعي فيما قاله الدارقطني في ...» [ترقيم الرساله 2262] [ترقيم الشركة 2244]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن، غير أنَّ شعبة لم يضبط اسم صحابي الحديث، وضبطه سفيانُ الثَّوري كما في الطريق السابقة، وتابع سفيانَ على تسميته سويدَ بن قيس كلٌّ من قيس بن الربيع عند أبي داود الطيالسي (1288)، وشريك النخعي فيما قاله الدارقطني في "العلل" (3391)، وإسرائيل بن يونس السَّبيعي فيما قاله الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 4/ 2136 في رسم مخرمة ومخرفة. قال أبو داود: رواه قيس كما قال سفيان، والقول قول سفيان. قلنا: وكذلك صحَّح النسائي (6141) والدارقطني في "العلل" رواية سفيان ومن تابعه.
حکم / درجۂ حدیث: سند "حسن" ہے، مگر امام شعبہ صحابی کا نام درست محفوظ نہیں رکھ سکے جبکہ سفیان ثوری نے اسے صحیح طور پر "سوید بن قیس" بیان کیا ہے
اہم نکتہ: سفیان کی تائید قیس بن الربیع، شریک النخعی اور اسرائیل بن یونس نے بھی کی ہے، لہٰذا سفیان کا قول ہی معتبر ہے جیسا کہ امام نسائی اور دارقطنی نے بھی صراحت کی ہے۔
على أنَّ الحاكم ومن قبله النسائيُّ - فيما نقله عنه الدولابي في "الكنى" (413) - قد جزما بأنَّ أبا صفوان كنية سويد بن قيس، فإن ثبت ذلك لم يتعارض قول سفيان ومن تابعه مع قول شعبة، لكن يعكر عليه أنَّ شعبة كان أحيانًا يقيد أبا صفوان بابن عميرة، وأحيانًا يسميه مالك بن عميرة، ومرة يقول: ابن عُمير، ومرة يقول: صفوان، ومرة يقول: ابن صفوان، فهذا اضطراب من شعبة يدلُّ على أنه لم يضبط الاسم.
علّت / فنی نکتہ: امام حاکم اور نسائی کے مطابق ابوصوان، سوید بن قیس ہی کی کنیت ہے، لیکن شعبہ اس نام میں شدید مضطرب رہے، کبھی اسے مالک بن عمیرہ کہتے اور کبھی کچھ اور، جو ان کے عدم ضبط کی دلیل ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 45)، وابن ماجه (2221) والنسائي (6141) و (9594) من طريق محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 24009)، ابن ماجہ (2221) اور نسائی (6141) نے محمد بن جعفر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (19099) عن حجاج بن محمد، و 39/ (24009/ 45) عن يزيد بن هارون، وأبو داود (3337) عن حفص بن عمر ومسلم بن إبراهيم، والنسائي (9593) من طريق أبي داود الطيالسي، و (9595) من طريق سهل بن حماد الدلّال، كلهم عن شعبة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (3337) اور نسائی نے شعبہ کے مختلف شاگردوں (یزید بن ہارون، مسلم بن ابراہیم وغیرہ) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2262 سے ماخوذ ہے۔