حدیث نمبر: 2201
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن الحسن بن عبّاد، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، حدثنا هشام الدَّستُوائي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن هشام الدَّستُوائي، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سَلّام، عن جدِّه ممطور، عن أبي أمامة: أنَّ رجلًا سأل النبيَّ ﷺ: ما الإيمانُ؟ قال: "إذا سرَّتْك حسنتُك وساءتك سيئتُك، فأنت مؤمنٌ" قال: يا رسولَ الله، ما الإثمُ؟ قال: "إذا حاكَ في صدرك شيءٌ فدَعْهُ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2171 - سكت عنه الذهبي في هذا الموضع
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا: ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری برائی تمہیں غمگین کر دے، تو تم مومن ہو۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! گناہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے سینے میں کوئی چیز کھٹکے (شک پیدا کرے) تو اسے چھوڑ دو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2201
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، كما تقدم برقم (33). وهو في "مسند أحمد" 36/ (22199).» [ترقيم الرساله 2201] [ترقيم الشركة 2182] [ترقيم العلميه 2171]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، كما تقدم برقم (33). وهو في "مسند أحمد" 36/ (22199).
حکم / درجۂ حدیث: سند
صحیح ہے جیسا کہ حدیث نمبر (33) میں گزرا، اور یہ مسند احمد میں بھی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2201 سے ماخوذ ہے۔