المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
السَّبْعُ الْمَثَانِي فَاتِحَةُ الْكِتَابِ مَعَ التَّسْمِيَةِ باب: سات بار دہرائی جانے والی آیات یعنی سورۂ فاتحہ بسم اللہ کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 2044
فأخبرَناه الحسنُ بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله. وحدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا أحمد بن محمد بن حُرَيث، حدثنا سعيد بن يعقوب الطّالْقاني، حدثنا عبد الله بن المبارَك، عن ابن جُرَيج، عن أبيه، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، في السَّبع المَثَاني، قال: هنَّ فاتحةُ الكتاب. قرأَها ابنُ عباس ببِسْم الله الرحمن الرحيم سبعًا، قال ابن جُرَيج: فقلت لأبي: أخبرك سعيد بن جُبير عن ابن عباس أنه قال: "بسم الله الرحمن الرحيم" آيةٌ من كتاب الله؟ قال: نعم، ثم قال: قرأها ابن عباس ببسم الله الرحمن الرحيم في الركعتين جميعًا (2). وأما حديث محمد بن بَكْر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ”سبع مثانی“ کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ فاتحہ الکتاب ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» کے ساتھ ملا کر سات آیات کے طور پر پڑھا، ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: کیا سعید بن جبیر نے آپ کو ابن عباس کے حوالے سے یہ بتایا کہ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» اللہ کی کتاب کی ایک (مستقل) آیت ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، پھر کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دونوں رکعتوں میں «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» کے ساتھ قرات کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف كسابقه، وأحمد بن محمد بن حريث هو السجستاني، وهو واهٍ.
وأخرجه البيهقي 2/ 47 عن أبي عبد الله الحاكم، بالإسنادين جميعًا.
حکم / درجۂ حدیث: پچھلی سند کی طرح اس کی سند بھی ضعیف ہے، اور احمد بن محمد بن حریث السجستانی "واہی" (نہایت کمزور راوی) ہے۔
حوالہ / مصدر: بیہقی نے 2/ 47 میں امام حاکم کے واسطے سے ان دونوں اسناد کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن الضُّريس في "فضائل القرآن" (159) عن سهل بن عثمان، عن ابن المبارك، به. لكن دون ذكر البسملة. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الضریس نے "فضائل القرآن" (159) میں ابن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں "بسم اللہ" کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 47 عن أبي عبد الله الحاكم، بالإسنادين جميعًا.
حکم / درجۂ حدیث: پچھلی سند کی طرح اس کی سند بھی ضعیف ہے، اور احمد بن محمد بن حریث السجستانی "واہی" (نہایت کمزور راوی) ہے۔
حوالہ / مصدر: بیہقی نے 2/ 47 میں امام حاکم کے واسطے سے ان دونوں اسناد کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن الضُّريس في "فضائل القرآن" (159) عن سهل بن عثمان، عن ابن المبارك، به. لكن دون ذكر البسملة. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الضریس نے "فضائل القرآن" (159) میں ابن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں "بسم اللہ" کا ذکر نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2044 سے ماخوذ ہے۔