المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
التَّسْبِيحُ بِالنَّوَى باب: کھجور کی گٹھلیوں پر تسبیح کرنے کا جواز۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا شاذُّ بن فَيَّاض، حدثنا هاشم بن سعيد عن كِنانةَ، عن صَفِيَّةَ قالت: دخلَ علَيَّ رسولُ الله ﷺ وبين يدَيّ أربعة آلافِ نَوَاةٍ أسبِّحُ بهنّ، فقال: "يا بنتَ حُيَيٍّ، ما هذا؟ " قلتُ: أُسبِّحُ بهنّ، قال: "قد سبَّحتُ منذ قُمتُ على رأسِكِ أكثرَ من هذا"، قلت: عَلِّمني يا رسولَ الله، قال: "قُولي: سبحانَ الله عَدَدَ مَا خَلَقَ من شيءٍ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث المصريين بإسناد أصحَّ من هذا:
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے سامنے چار ہزار کھجور کی گٹھلیاں پڑی تھیں جن پر میں تسبیح پڑھ رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے حُیی کی بیٹی! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں ان پر تسبیح پڑھ رہی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب سے میں تمہارے پاس آ کر کھڑا ہوا ہوں، میں نے اس سے بھی زیادہ تسبیح پڑھ لی ہے“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی سکھا دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ مِنْ شَيْءٍ» ”اللہ کی تسبیح ہے اس کی پیدا کردہ ہر چیز کی تعداد کے برابر۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مصری راویوں کی ایک حدیث سے اس کا شاہد بھی موجود ہے جس کی سند اس سے بھی زیادہ صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ "حسن" ہے۔ اگرچہ ہاشم بن سعید ضعیف ہیں مگر حضرت صفیہ سے مروی دیگر طرق اور شواہد کی بنا پر اسے حسن قرار دیا جا سکتا ہے۔
وأخرجه الترمذي (3554) من طريق عبد الصمد بن عبد الوارث، عن هاشم بن سعيد، به.
حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے عبد الصمد بن عبد الوارث کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقال: حديث غريب لا نعرفه عن صفية إلّا من هذا الوجه من حديث هاشم بن سعيد الكوفي، وليس إسناده بمعروف.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "غریب" کہا ہے اور فرمایا کہ اس کی سند معروف نہیں ہے۔
كذا قال مع أنَّ له طريقًا أخرى عند أبي الحسن الخِلَعي في "الخِلَعيّات" كما قال الحافظ ابن حجر في "النكت الظِّراف" 11/ (15904)، وأخرجه من طريقه في "نتائج الأفكار" 1/ 83 من طريق حُدَيج بن معاوية، عن كنانة مولى صفيّة، عن صفيّة. وحُديج بن معاوية ضعيف يُعتبر به في المتابعات والشواهد كما هو الحال هنا.
سندی بحث: حافظ ابن حجر کے مطابق اس کا ایک دوسرا طریق "حدیج بن معاویہ" کی سند سے بھی ہے، اور حدیج ضعیف ہونے کے باوجود متابعات میں قبول کیے جاتے ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (5472)، و"الدعاء" (1740) من طريق يزيد بن مُعتِّب مولى
صفيّةَ، عن صفية. ويزيد مولى صفيّة سمِّي أبوه معتّبًا في كتابي الطبراني المذكورين، وكذلك سمَّاه المزِّي في "تهذيب الكمال" في الرواة عن صفيّة، وسمَّاه البخاري في "تاريخه الكبير" 8/ 340، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 9/ 271: يزيد بن شعيب، وسمِّي في رواية له في "المطالب العالية" (1070): يزيد بن سعيد، فالظاهر أنَّ سعيدًا تحريف عن شعيب، وكذلك معتب تحريف عن شعيب، والله تعالى أعلم، وعلى أي حالٍ فهو - وإن كان فيه جَهالة - تابعيٌّ كان مولًى لصفيّة بنت حُيَيّ، ولا يُعرف بجرح، فيُحتمل تحسينُ حديثه في المتابعات والشواهد.
سندی بحث: طبرانی کی روایات میں "یزید مولیٰ صفیہ" کا ذکر ہے جن کے والد کے نام میں اختلاف ہے؛ وہ ایک تابعی ہیں اور ان پر کوئی جرح نہیں، لہٰذا شواہد میں ان کا اعتبار کیا جائے گا۔
ويشهد له حديث سعد بن أبي وقاص التالي.
متابعات و شواہد: حضرت سعد بن ابی وقاص کی اگلی حدیث بھی اس کے لیے شاہد ہے۔