المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
دُعَاءُ رَدِّ الْبَصَرِ باب: نگاہ لوٹانے کی دعا۔
أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرم، حدثنا عثمان بن عُمر، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن أبي جعفر المَديني، قال: سمعتُ عُمارة بن خُزيمة يُحدِّث عن عثمان بن حُنَيف: أنَّ رجلًا ضريرًا أتى النبيَّ ﷺ، فقال: ادْعُ اللهَ تعالى أن يُعافِيَني، قال: "إن شئتَ أخَّرتَ ذلك، وإن شئتَ دعوتُ"، قال: فادْعُه، قال: فأمَرَه النبيُّ ﷺ أن يتوضأ فيُحسنَ الوضوءَ، ويُصليَ ركعتَين، ويدعوَ بهذا الدُّعاء: "اللهمّ إني أسألُك وأتوجَّه إليكَ بنبيِّك محمدٍ ﷺ نبيِّ الرَّحمةِ، يا محمدُ، إني أتوجَّه بك إلى ربّك في حاجَتي هذه فتَقضِيها لي، اللهم شفِّعْه فيَّ وشَفِّعْني فيه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے عافیت (بینائی) عطا کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں اسے مؤخر کر دوں، اور اگر تم چاہو تو میں دعا کر دوں“، اس نے کہا: آپ دعا فرما دیں، راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے اور پھر یہ دعا کرے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِيَهَا لِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ وَشَفِّعْنِي فِيهِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد ﷺ جو کہ نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد (ﷺ)! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت کے بارے میں متوجہ ہوتا ہوں تاکہ وہ میرے لیے پوری کر دی جائے، اے اللہ! ان کی سفارش میرے حق میں قبول فرما اور میری دعا ان کے حق میں قبول فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابوجعفر المدینی سے مراد عمیر بن یزید الخطمی ہیں۔
وقد تقدَّم برقم (1194) من طريق العباس بن محمد الدُّوري عن عثمان بن عُمر.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے رقم (1194) پر عباس الدوری کے طریق سے گزر چکی ہے۔