حدیث نمبر: 1484
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن مَيمُون، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحَكَم، عن ابن أبي رافع، عن أبي رافع: أنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَ رجلًا من بني مَخزُوم على الصَّدقة، فقال لأبي رافع: اصحَبْني كَيْما تُصيبَ منها، فقال: لا، حتى آتيَ رسولَ الله ﷺ، فانطَلَقَ إلى النبي ﷺ فسأله، فقال: "إنَّ الصَّدقةَ لا تَحِلُّ لنا، وإنَّ مَواليَ القوم من أنفُسِهم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے پر مامور کیا، اس نے ابورافع سے کہا: ”میرے ساتھ چلو تاکہ تمہیں بھی اس میں سے کچھ حصہ مل جائے“، انہوں نے کہا: ”نہیں، جب تک میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت نہ کر لوں۔“ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک صدقہ (زکوٰۃ) ہمارے لیے حلال نہیں ہے، اور کسی قوم کے آزاد کردہ غلام بھی انہی (کے حکم) میں شمار ہوتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1484
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحكم: هو ابن عُتيبة الكِندي، وابن أبي رافع: اسمه عبيد الله، وهو كاتب علي بن أبي طالب، وأبو رافع: هو مولى النبي ﷺ، واسمه أسلم.» [ترقيم الرساله 1484] [ترقيم الشركة 1473]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. الحكم: هو ابن عُتيبة الكِندي، وابن أبي رافع: اسمه عبيد الله، وهو كاتب علي بن أبي طالب، وأبو رافع: هو مولى النبي ﷺ، واسمه أسلم.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: حکم بن عتیبہ الکندی ہیں، ابن ابی رافع کا نام عبید اللہ ہے (جو حضرت علیؓ کے کاتب تھے) اور ابو رافع نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام ہیں جن کا نام اسلم ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 39/ (23872). وقرن أحمد هناك بمحمد بن جعفر: بهزَ بن أسد العمِّي.
حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (39/ 23872) میں موجود ہے۔
وأخرجه الترمذي (657) عن محمد بن المثنى، عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (657) نے روایت کیا اور اسے "حسن صحیح" قرار دیا۔
وأخرجه أحمد 45/ (27182)، وأبو داود (1650)، والنسائي (2404)، وابن حبان (3293) من طريقين عن شعبة، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (45/ 27182)، ابو داود (1650)، نسائی (2404) اور ابن حبان (3293) نے شعبہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 39/ (23863) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن الحكم بن عتيبة، به. وسمَّى الرجل صاحب القصة مع أبي رافع: الأرقمَ الزهري، أو ابن أبي الأرقم.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے، جس میں اس شخص کا نام "ارقم زہری" یا "ابن ابی الارقم" بتایا گیا ہے۔
وأخرجه النسائي (2405) من طريق حمزة الزيات، عن الحكم بن عتيبة، عن بعض أصحابه: أنَّ رسول الله ﷺ بعث أرقم بن أبي أرقم ساعيًا على الصدقة … فذكر نحوه.
حوالہ / مصدر: نسائی (2405) نے حمزہ زیات کے طریق سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارقم بن ابی ارقم کو زکوٰۃ وصول کرنے والا بنا کر بھیجا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1484 سے ماخوذ ہے۔