حدیث نمبر: 1472
أخبرنا محمد بن موسى الصَّيدَلاني، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المُثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضَرِّب قال: جاء ناسٌ من أهل الشام إلى عمر، فقالوا: إنا قد أصَبْنا أموالًا؛ خيلًا ورقيقًا، نحبُّ أن يكون لنا فيها زكاةٌ وطُهورٌ، قال: ما فَعَلَه صاحباي قَبْلي فأفعَلُه، فاستشار عمرُ عليًّا في جماعةٍ من أصحاب رسول الله ﷺ، فقال عليٌّ: هو حَسَنٌ إن لم يكن جِزيةً يُؤخَذون بها راتبةً (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، إلّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن حارثة، وإنما ذكرتُه في هذا الموضع للمُحْدَثات الراتبة التي فُرِضَتْ في ............... (2).
حافظ طلحہ بابر

حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں کہ شام کے کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: "ہم نے گھوڑوں اور غلاموں کی صورت میں مال حاصل کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ان پر بھی زکوٰۃ (صدقہ) ادا کریں تاکہ یہ ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنے"۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جو کام مجھ سے پہلے میرے دو ساتھیوں (نبی ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے نہیں کیا، وہ میں کیسے کروں؟" پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یہ اچھا عمل ہے بشرطیکہ اسے ایک لازمی جزیہ نہ بنا لیا جائے جو ان سے ہمیشہ وصول کیا جاتا رہے"۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے حارثہ سے روایت نہیں لی، میں نے اسے یہاں ان نئے مقرر کردہ صدقات کے ذکر کے لیے درج کیا ہے جو بعد میں رائج ہوئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1472
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.» [ترقيم الرساله 1472] [ترقيم الشركة 1460]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: سفیان سے مراد الثوری اور ابو اسحاق سے مراد عمرو بن عبداللہ السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (82) عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (1/ 82) نے عبدالرحمن بن مہدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (218) من طريق زهير بن معاوية، عن أبي إسحاق، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (218) نے زہیر بن معاویہ کے طریق سے ابو اسحاق سے روایت کیا ہے۔
(2) وقع هنا بياض في النسخ الخطية.
توضیح: یہاں قلمی نسخوں میں بیاض (خالی جگہ) واقع ہوئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1472 سے ماخوذ ہے۔