حدیث نمبر: 1260
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، حدثني الأشعث بن سُلَيم، عن الأسود بن هلال، عن ثعلبة بن زَهْدَم قال: كنا مع سعيد بن العاص بطَبَرِسْتان فقال: أيُّكم صلَّى مع رسول الله ﷺ صلاةَ الخوف؟ فقال حذيفة: أنا، فقام حذيفةُ فصفَّ الناسَ خَلْفَه، وصفًّا موازيَ العدو، فصلى بالذين خَلْفَه ركعةً، ثم انصرف هؤلاء مكانَ هؤلاء، وجاء أولئك فصلى بهم ركعةً ولم يَقضُوا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
حافظ طلحہ بابر

اسود بن ہلال، ثعلبہ بن زہدم سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم طبرستان میں سعید بن عاص کے ساتھ تھے، تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے۔“ پس سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنے پیچھے لوگوں کی ایک صف بنائی، اور ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی کی، پھر آپ نے اپنے پیچھے والوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ ان (دوسرے) لوگوں کی جگہ چلے گئے، اور وہ (دوسرے) آ گئے تو آپ نے انہیں (بھی) ایک رکعت پڑھائی اور انہوں نے (بقیہ نماز) قضا نہیں کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 1260
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،يحيى بن سعيد: هو القطان، وسفيان: هو الثوري، والأشعث بن سليم: هو الأشعث بن أبي الشعثاء.» [ترقيم الرساله 1260] [ترقيم الشركة 1249]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. يحيى بن سعيد: هو القطان، وسفيان: هو الثوري، والأشعث بن سليم: هو الأشعث بن أبي الشعثاء.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ یحییٰ القطان اور سفیان ثوری اس کے راوی ہیں۔ اشعث سے مراد ابن ابی الشعثاء ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1246)، والنسائي (1931)، وابن حبان (1452) و (2425) من طرق عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1246)، نسائی (1931) اور ابن حبان (2425) نے القطان کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (23268)، والنسائي (1930) من طريق وكيع، وأحمد 38/ (23389) عن عبد الرحمن بن مهدي، كلاهما عن سفيان الثوري، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی (1930) نے وکیع اور عبدالرحمن بن مہدی کی سندوں سے سفیان ثوری کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وله طرق أخرى عن حذيفة استوفيا تخريجها في "المسند".
متابعات و شواہد: حضرت حذیفہ سے اس کے دیگر طرق "مسند احمد" میں تفصیل سے موجود ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1260 سے ماخوذ ہے۔