حدیث نمبر: 1191
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق العدلُ ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا زيد بن حُباب، حدثنا إسرائيل بن يونس، عن مَيسرة بن حَبِيب، عن المِنْهال بن عمرو، عن زِرٍّ، عن حُذيفةَ: أنه صلَّى مع النبي ﷺ المغربَ، ثم صلَّى حتى صلَّى العشاء (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، پھر وہ مسلسل نفل نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا اور انہوں نے عشاء پڑھ لی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1191
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، زِرّ: هو ابن حُبَيش الأسدي، وحذيفة: هو ابن اليمان» [ترقيم الرساله 1191] [ترقيم الشركة 1181]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. زِرّ: هو ابن حُبَيش الأسدي، وحذيفة: هو ابن اليمان.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ زر بن حبیش اور حذیفہ بن یمان اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23436). وأخرجه النسائي (379) و (380) عن أحمد بن سليمان، و (8307) عن القاسم بن زكريا، وابن حبان (6960) من طريق ابن أبي شيبة، أربعتهم (أحمد بن حنبل، وأحمد بن سليمان، والقاسم، وابن أبي شيبة) عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.

وذكر أحمد بن حنبل والقاسم بن زكريا الحديث مطولًا فيه قصة لحذيفة مع أمه، واختصره أحمد بن سليمان وابن أبي شيبة كما هو هنا في "المستدرك" إلّا أنَّ الأخير زاد في آخره: "عرض لي ملكٌ استأذن ربه أن يسلم عليَّ، ويبشرني أنَّ الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة".

حوالہ / مصدر: اسے احمد (23436/38)، نسائی اور ابن حبان نے زید بن حباب کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ: "ایک فرشتے نے آ کر مجھے بشارت دی کہ حسن و حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں"۔
وستأتي هذه الزيادة منفردة في "المستدرك" برقم (5730).
تکرار: یہ اضافہ مستدرک میں الگ سے نمبر (5730) پر آئے گا۔
وأخرجه أحمد 38/ (23329)، والترمذي (3781)، والنسائي (380) و (8240)، وابن حبان (7126) من طرق عن إسرائيل، به. وذكروه جميعًا مطولًا بالقصة المشار إليها إلّا النسائي (380) فمختصرًا. وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه، لا نعرفه إلّا من حديث إسرائيل.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ترمذی (3781) اور نسائی نے اسرائیل کے طریق سے طویل قصے کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1191 سے ماخوذ ہے۔