حدیث نمبر: 1066
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح: أنَّ أبا سعيدٍ الخدري دخل يوم الجمعة ومروانُ بن الحكم يخطُبُ، فقام يصلي، فجاء الأحراس ليُجلِسوه فأبى حتى صلَّى، فلما انصَرَفَ مروان أتيناه فقلنا له: يرحمُكَ الله، إن كادوا ليَفعَلون بك، قال: ما كنتُ أتركُها بعد شيءٍ رأيتُه من رسول الله ﷺ، ثم ذَكَرَ رجلًا جاء يومَ الجمعة ورسولُ الله ﷺ، يَخطُب، ثم جاء يومَ الجمعة الأخرى ورسولُ الله ﷺ يَخطُب، فأَمَرَ رسول الله ﷺ الناسَ أن يتصدَّقوا، فألقى الرجلُ أحدَ ثوبيه، فصلَّى رسولُ الله ﷺ، ثم زَجَرَه وقال: "خُذْ ثوبَك". ثم قال رسول الله ﷺ: "إنَّ هذا دخلَ في هيئةٍ بَذَّة، فأمرتُ الناسَ أن يتصدَّقوا، فألقَى هذا أحدَ ثَوبَيه"، ثم أمره رسولُ الله ﷺ أن يُصلّيَ ركعتين (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو شاهدٌ للحديث الذي قبله. وله شاهدٌ آخر على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1054 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

عیاض بن عبداللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے جبکہ مروان بن حکم خطبہ دے رہا تھا، وہ (تحیۃ المسجد) پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو سپاہی انہیں بٹھانے کے لیے آئے لیکن انہوں نے انکار کر دیا یہاں تک کہ نماز پڑھ لی، جب مروان فارغ ہو کر مڑا تو ہم ان کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ آپ پر رحم کرے، وہ تو آپ کے ساتھ (سختی) کرنے ہی والے تھے، انہوں نے فرمایا: میں اسے (ان دو رکعتوں کو) رسول اللہ ﷺ سے ایک عمل دیکھنے کے بعد ہرگز نہیں چھوڑ سکتا تھا، پھر انہوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو جمعہ کے دن آیا جبکہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، پھر وہ اگلے جمعہ کو بھی آیا جبکہ آپ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، اس شخص نے اپنے دو کپڑوں میں سے ایک پھینک دیا (صدقہ کر دیا)، رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”اپنا کپڑا اٹھا لو“، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص انتہائی خستہ حال میں داخل ہوا تھا تو میں نے لوگوں کو صدقہ کا حکم دیا تو اس نے اپنے دو کپڑوں میں سے ایک دے دیا“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ پچھلی حدیث کا شاہد ہے، اس کا ایک اور شاہد بھی امام مسلم کی شرط پر موجود ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1066
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل ابن عجلان: وهو محمد» [ترقيم الرساله 1066] [ترقيم الشركة 1058] [ترقيم العلميه 1054]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل ابن عجلان: وهو محمد. الحميدي: هو أبو بكر عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: (1) محمد بن عجلان کی وجہ سے سند قوی ہے۔ الحمیدی سے مراد عبداللہ بن الزبیر اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أبو داود (1675)، وابن ماجه (1113)، والترمذي (511)، والنسائي (1731) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً و مختصراً ابوداؤد (1675)، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے سفیان بن عیینہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11197)، والنسائي (2328)، وابن حبان (2503) و (2505) من طريق يحيى بن سعيد القطان، عن محمد بن عجلان، به. والموضع الأول عند ابن حبان مختصر.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11197/17)، نسائی اور ابن حبان (2503) نے یحییٰ بن سعید القطان عن محمد بن عجلان کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي في "المستدرك" مختصرًا برقم (1522) بالإسناد نفسه، غير أنَّ شيخ الحاكم هناك هو: علي بن حمشاذ.
تکرار: یہ مستدرک میں مختصراً نمبر (1522) پر اسی سند سے دوبارہ آئے گی۔
وأخرج أحمد 18/ (11669) من طريق ابن لهيعة، عن موسى بن وردان، عن أبي سعيد أنه قال: كنا مع رسول الله ﷺ يوم الجمعة، فدخل أعرابي ورسول الله ﷺ على المنبر، فجلس الأعرابي في آخر الناس، فقال له النبي ﷺ: "أركعت ركعتين؟ " قال: لا، قال: فأمره فأتى الرحبة التي عند المنبر فركع ركعتين. وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
درجۂ حدیث: مسند احمد میں مروی "بدوی کا خطبے کے دوران آکر بیٹھنا اور آپ ﷺ کا اسے دو رکعت کا حکم دینا"؛ یہ سند ابن لہیعہ کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
قوله: "خذ ثوبك" قال ابن حبان: لفظة أمر بأخذ الثوب، مرادها الزجر عن ضده، وهو بذل الثوب، وفي هذا دليل على أنَّ المرء إذا أخرج شيئًا للصدقة فما لم يقع في يد المتصدَّق به عليه له أن يرجع فيه، وفيه دليل على أنَّ المرء غير مستحب له أن يتصدق بماله كله إلّا عند الفضل عن نفسه وعمَّن يقوته.
(توضیح): "خذ ثوبک" (اپنا کپڑا لے لو)؛ ابن حبان کے مطابق یہ صدقہ واپس لینے کی اجازت ہے اگر وہ ابھی لینے والے کے ہاتھ میں نہ پہنچا ہو، اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ انسان اپنا سارا مال صدقہ نہ کرے بلکہ اپنی ضرورت سے زائد مال دے۔
وقوله: هيئة بذة، أي: سيئة تدل على الفقر.
(توضیح): "ہیئۃ بذۃ"؛ یعنی ایسی خستہ حالت جو فقر و فاقہ ظاہر کر رہی ہو۔
وقوله: ثم أمره أن يصلي ركعتين، قال الترمذي: والعمل على هذا عند بعض أهل العلم … وقال بعضهم: إذا دخل والإمام يخطب فإنه يجلس ولا يصلي، والقول الأول أصح.
مجموعی اصول / قاعدہ: دورانِ خطبہ دو رکعت پڑھنے پر اختلاف ہے؛ بعض نے ممانعت کی مگر راجح یہی ہے کہ دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھنی چاہئیں جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1066 سے ماخوذ ہے۔