کتب حدیثمسند عمر بن عبد العزيزابوابباب جمعہ کی فرضیت، توبہ و اعمال صالحہ میں جلدی کرنے اور دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّوْرَقِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُوسَى ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكُرَيْزِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ , يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بن عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " أَلا أَيُّهَا النَّاسُ ، تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا ، وَبَادِرُوا بِالأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تَشْتَغِلُوا ، وَصِلُوا الَّذِي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ بِكَثْرَةِ ذِكْرِكُمْ لَهُ ، وَكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلانِيَةِ ، تَزْهَدُوا وَتُؤْجَرُوا وَتُنْصَرُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا ، فِي يَوْمِي هَذَا ، فِي شَهْرِي هَذَا ، مِنْ عَامِي هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدَ مَوْتِي وَلَهُ إِمَامٌ فَلا جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ ، أَلا فَلا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِي أَمْرِهِ ، أَلا وَلا بِرَّ لَهُ ، أَلا وَلا صَوْمَ لَهُ ، أَلا وَلا صَلاةَ لَهُ ، أَلا وَلا تَؤُمُّ امْرَأَةٌ رَجُلا ، وَلا يَؤُمُّ أَعْرَابِيٌّ مُهَاجِرًا ، أَلا وَلا يَؤُمُّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا ، إِلا أَنْ يَقْهَرَهُ سُلْطَانٌ يَخَافُ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ " .
حافظ محمد فہد
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر بیان فرماتے سنا: خبردار اے لوگو! موت سے قبل اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگ لو ، اور مصروف ہونے سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کر لو ، جو تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان تعلق ہے، اس کو کثرت ذکر اور مخفی و علانیہ کثرت صدقہ سے مضبوط کرو۔ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو ، اجر و ثواب کماؤ، (دوسروں کی) مدد کرو اور جان لو ! بے شک اللہ تعالی نے تم پر جمعہ فرض کیا، میرے اس کھڑے ہونے کی جگہ ، میرے اس دن، میرے اس مہینے میں میرے اس سال سے لے کر قیامت کے دن تک ، جس نے اس کو میری زندگی میں یا میری وفات کے بعد چھوڑ دیا، اس کے لیے امام ہے اللہ اس کے بکھرے کام نہ سمیٹے ، اللہ اس کے معاملات میں برکت نہ پیدا کرے ، اس کی کوئی نیکی (قبول ) نہیں ، نہ اس کا روزہ ہے نہ نماز ، خبردار ! عورت کسی مرد کی ، اعرابی کسی مہاجر کی ، اور فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرائے ، مگر یہ کہ اسے بادشاہ مجبور کرے جس کی تلوار اور کوڑے سے وہ ڈرتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند عمر بن عبد العزيز / عمر بن عبد العزيز عن عبادة بن عبد الله / حدیث: 90
تخریج حدیث « اسناده ضعيف جدا: سنن ابن ماجه ، اقامة الصلوات ، باب فى فرض الجمعة: 1081 ، والبيهقي: 2/ 90 ، 171 شيخ بديع الدين رحمه الله فرماتے هيں: اس حديث كي سند بهي گزشته حديث كي طرح بهت زياده ضعيف هے. »