کتب حدیثمسند عمر بن عبد العزيزابوابباب عجوہ کھجور کے فضائل اور زہر سے حفاظت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان
حدیث نمبر: 76
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ ، وَيَبْدَأُ بِهِنَّ ، لَمْ يَضُرَّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ سُمٌّ حَتَّى اللَّيْلِ " ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَامِرُ ، فَقَالَ عَامِرٌ : أَشْهَدُ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ ، وَلا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَأَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبْ .
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عبد الرحمٰن سے مروی ہے ، عامر بن سعد نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے حدیث بیان کی سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سات عجوہ کھجوریں مدینہ کے دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے درمیانی قطعہ کی کھائیں۔ اور انہیں سے دن کا آغاز کرے ، اس دن اسے رات تک کوئی زہر نقصان نہیں دے گا ۔ “ عامر بن سعد کو عمر بن عبد العزیز نے کہا، اے سعد! دیکھیں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیا بات منسوب کر کے بیان کر رہے ہیں؟ سعد نے (جواباً) کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹ منسوب نہیں کیا اور نہ سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کیا ۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا، اور میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بیانی نہیں فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند عمر بن عبد العزيز / عمر بن عبد العزيز عن عامر بن سعد / حدیث: 76
تخریج حدیث «اسناده حسن: مسند احمد: 168/1 ، حلية الاولياء: 362/5] اس كي اصل صحيحين ميں هے. [صحيح بخاري ، رقم: 5445 ، 5769 ، 5779 ، و صحيح مسلم ، رقم: 2047»