کتب حدیث ›
مسند عمر بن عبد العزيز › ابواب
› باب حوضِ نبوی کی صفات اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی عاجزی کا بیان
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ , عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلامٍ الأَسْوَدِ ، قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ ثَوْبَانَ فِي الْحَوْضِ ، قَالَ : فَبَعَثَ إِلَيْهِ ، فَحُمِلَ عَلَى الْبَرِيدِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عُمَرُ كَالْمُتَوَجِّعِ : مَا أَرَدْنَا الْمَشَقَّةَ عَلَيْكَ يَا أَبَا سَلامٍ ، وَلَكِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ تُحَدِّثُ بِهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي فِيهِ مُشَافَهَةً . قَالَ أَبُو سَلامٍ : سَمِعْتُ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، أَكَاوِيبُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَأَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ ، الشُّعْثُ رُءُوسًا ، الدُّنُسُ ثِيَابًا ، لا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ ، وَلا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ " ، قَالَ عُمَرُ : لَكِنِّي نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ فَاطِمَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَفُتِحَتْ لِيَ السُّدَدُ ، فَلا جَرَمَ لا أَغْسِلُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ ، وَلا أُلْقِي ثَوْبِي حَتَّى يَتَّسِخَ .
حافظ محمد فہد
ابو سلام الاسود کہتے ہیں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تک یہ اطلاع پہنچی کہ میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے حوض سے متعلق حدیث بیان کرتا ہوں، انہوں نے میری طرف پیغام بھیجا تو میں ڈاک کے گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ، تو عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے معذرت کرتے ہوئے کہا، ہم آپ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے لیکن مجھے آپ سے متعلق معلوم ہوا آپ ثوبان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حوض سے متعلق حدیث بیان کرتے ہیں۔ اور میں نے چاہا آپ سے براہ راست وہ حدیث سنوں۔ ابو سلام نے کہا: میں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان فرما رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے لے کر عمان بلقاء تک (کی مسافت جتنا لمبا چوڑا) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہیں ، جس نے اس سے ایک بار پانی پی لیا پھر اسے کبھی بھی پیاس نہ لگے گی۔ سب سے پہلے حوض پر وہ غریب مہاجر آئیں گے جن کے سر کے بال پراگندہ اور کپڑے میلے ہوں گے ، وہ ناز و نعمت میں پرورش پانے والی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے ، ان کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: لیکن میں نے تو ناز و نعمت میں پلی فاطمہ بنت عبد الملک سے نکاح کیا اور میرے لیے بند دروازے کھولے گئے ، اب میں ضرور اپنے سر کو پراگندہ ہونے تک نہیں دھوؤں گا اور اپنے کپڑے بوسیدہ ہونے تک نہیں اتاروں گا۔