کتب حدیث ›
مسند عمر بن عبد العزيز › ابواب
› باب حوضِ نبوی کی وسعت اور فقراء مہاجرین کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلامٍ الْحَبَشِيِّ ، فَحُمِلَ عَلَى الْبَرِيدِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ مَحْمَلِي عَلَى الْبَرِيدِ ، قَالَ عُمَرُ : مَا أَرَدْنَا الْمَشَقَّةَ بِكَ يَا أَبَا سَلامٍ ، وَلَكِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ ، قَالَ أَبُو سَلامٍ : سَمِعْتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، أَكَاوِيبُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمُ الشُّعْثُ رُءُوسًا ، الدُّنُسُ ثِيَابًا ، الَّذِينَ لا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ ، وَلا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ " ، قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : لا جَرَمَ وَاللَّهِ ، لَقَدْ فُتِحَتْ لِي أَبْوَابُ السُّدَدِ ، وَنَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ ، فَاطِمَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ ، إِلا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ تَعَالَى ، لا جَرَمَ لا أَدْهُنُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ ، وَلا أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ .
حافظ محمد فہد
عباس بن سالم نے بیان کیا عمر بن عبد العزیز نے ابو سلام حبشی رحمہ اللہ کو پیغام بھیج کر بلایا تو وہ (جلد پہنچے کے لیے ) ڈاک کے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے ، جب عمر بن عبد العزیز ان کے پاس آئے تو کہا: اے امیر المومنین! مجھے ڈاک کے گھوڑے پر سواری کی مشقت اٹھانا پڑی۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا: اے ابو سلام اہم آپ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے، لیکن ہمیں معلوم ہوا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادہ کردہ غلام سے حوض کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہیں، میں نے چاہا کہ آپ سے براہ راست وہ حدیث سنوں۔ ابو سلام نے کہا میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے عمان بلقاء تک (کی مسافت جتنا لمبا) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس کے پیالے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں۔ جو اس سے ایک بار پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ حوض پر سب سے پہلے فقراء مہاجرین آئیں گے ۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا، وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جن کے سر پراگندہ اور کپڑے میلے ہوں گے۔ ناز و نعت میں پرورش پانے والی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے۔ ان کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔“ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے لیے دروازے کھولے گئے ، اور میں نے ناز و نعمت میں پلنے والی فاطمہ بنت عبد الملک سے نکاح کیا، اللہ مجھ پر رحم فرمائے ، اب میں ضرور سر کو تیل نہیں لگاؤں گا حتٰی کہ بال پراگندہ ہو جائیں اور اپنے جسم پر موجود کپڑے نہیں دھووں گا حتٰی کہ میلے نہ ہو جائیں۔