کتب حدیثمسند عمر بن عبد العزيزابوابباب مفلس کے پاس اپنا مال پانے والے کے زیادہ حق دار ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا مُعَنُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ، فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَالَهُ عِنْدَهُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ.»
حافظ محمد فہد
سيدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی مفلس ہو گیا ، اور قرض خواہ نے اس کے پاس اپنا مال بعینہ پایا تو وہ اس کا دوسروں سے زیادہ حق دار ہے۔
حوالہ حدیث مسند عمر بن عبد العزيز / عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن / حدیث: 41
تخریج حدیث «صحيح بخاري ، الاستقراض ، رقم: 2402 ، مسلم ، المساقاة ، رقم: 1550»