کتب حدیث ›
مسند عمر بن عبد العزيز › ابواب
› باب وِگ لگانے، گودنے، بھنویں بنوانے اور دانت تراشوانے والی پر لعنت کا بیان
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالُوا : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ , أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْمَدِينَةِ ، يَقُولُ : أَيْنَ فُقَهَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مِنْبَرِهِ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ الْقُصَّةِ ، ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى رَأْسِهِ ، فَلَمْ أَرَهَا عَلَى عَرُوسٍ عِنْدَ عُرْسٍ وَلا غَيْرِهِ أَجْمَلَ مِنْهَا عَلَى مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ، وَالْمُتَنَمِّصَةَ وَالنَّامِصَةَ ، وَالْوَاشِرَةَ وَالْمُسْتَوْشِرَةَ " .
حافظ محمد فہد
ابراہيم بن عبد اللہ بن قارظ نے بیان کیا میں نے سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا وہ مدینہ طیبہ میں منبر پر کہہ رہے تھے۔ اے اہل مدینہ تمہارے فقہاء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کے پاس بالوں کو اس طرح کرنے سے منع کرتے سنا پھر انہوں نے وِگ کو اپنے بالوں پر رکھ کر دکھایا۔ میں نے اس طرح بالوں کو کسی شادی وغیرہ کے موقع پر بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی پر اتنا خوبصورت نہیں دیکھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ”گودنے اور گدوانے والی پر، چہرے کے بال اکھیٹر نے (بھنویں بنانے ) اور اکھٹروانے (بھنویں بنوانے) والی پر، دانتوں کو تراشنے اور ترشوانے والی پر اللہ کی لعنت ہے۔“