کتب حدیثمسند عمر بن عبد العزيزابوابباب پنیر یا آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 24
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَوْقَ ظَهْرِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْوضُوءُ ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَمَا تَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ ! أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن ابراہیم زہری سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا تو ان سے دریافت کیا یہ کس چیز سے وضو ہے؟ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نہیں جانتے میں کیوں وضو کر رہا ہوں؟ میں پنیر کے ٹکڑے کھانے کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے۔ ”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند عمر بن عبد العزيز / عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب / حدیث: 24
تخریج حدیث «صحيح مسلم ، الحيض ، باب الوضوء مما مست النار: 351»