مسند عمر بن عبد العزيز
عمر بن عبد العزيز عن عبادة بن عبد الله— عمر بن عبدالعزیز کی عبادہ بن عبداللہ سے بیان کردہ روایات
بَابُ فَرْضِيَّةِ الْجُمُعَةِ وَالاسْرَاعِ فِي التَّوْبَةِ وَالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ وَالتَّزَاهُدِ فِي الدُّنْيَا باب: جمعہ کی فرضیت، توبہ و اعمال صالحہ میں جلدی کرنے اور دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے کا بیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّوْرَقِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُوسَى ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكُرَيْزِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ , يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بن عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " أَلا أَيُّهَا النَّاسُ ، تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا ، وَبَادِرُوا بِالأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تَشْتَغِلُوا ، وَصِلُوا الَّذِي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ بِكَثْرَةِ ذِكْرِكُمْ لَهُ ، وَكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلانِيَةِ ، تَزْهَدُوا وَتُؤْجَرُوا وَتُنْصَرُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا ، فِي يَوْمِي هَذَا ، فِي شَهْرِي هَذَا ، مِنْ عَامِي هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدَ مَوْتِي وَلَهُ إِمَامٌ فَلا جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ ، أَلا فَلا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِي أَمْرِهِ ، أَلا وَلا بِرَّ لَهُ ، أَلا وَلا صَوْمَ لَهُ ، أَلا وَلا صَلاةَ لَهُ ، أَلا وَلا تَؤُمُّ امْرَأَةٌ رَجُلا ، وَلا يَؤُمُّ أَعْرَابِيٌّ مُهَاجِرًا ، أَلا وَلا يَؤُمُّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا ، إِلا أَنْ يَقْهَرَهُ سُلْطَانٌ يَخَافُ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ " .طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر بیان فرماتے سنا: خبردار اے لوگو! موت سے قبل اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگ لو ، اور مصروف ہونے سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کر لو ، جو تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان تعلق ہے، اس کو کثرت ذکر اور مخفی و علانیہ کثرت صدقہ سے مضبوط کرو۔ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو ، اجر و ثواب کماؤ، (دوسروں کی) مدد کرو اور جان لو ! بے شک اللہ تعالی نے تم پر جمعہ فرض کیا، میرے اس کھڑے ہونے کی جگہ ، میرے اس دن، میرے اس مہینے میں میرے اس سال سے لے کر قیامت کے دن تک ، جس نے اس کو میری زندگی میں یا میری وفات کے بعد چھوڑ دیا، اس کے لیے امام ہے اللہ اس کے بکھرے کام نہ سمیٹے ، اللہ اس کے معاملات میں برکت نہ پیدا کرے ، اس کی کوئی نیکی (قبول ) نہیں ، نہ اس کا روزہ ہے نہ نماز ، خبردار ! عورت کسی مرد کی ، اعرابی کسی مہاجر کی ، اور فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرائے ، مگر یہ کہ اسے بادشاہ مجبور کرے جس کی تلوار اور کوڑے سے وہ ڈرتا ہو۔