مسند عمر بن عبد العزيز
عمر بن عبد العزيز عن عبد الله بن قارظ— عمر بن عبدالعزیز کی عبداللہ بن قارظ سے بیان کردہ روایات
بَابُ بَيَانِ لَعْنِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُقَلِّمَةِ وَالْمُنَمِّصَةِ لِلْوَجْهِ باب: وگ لگانے، چہرے کے بال اکھیڑنے اور گودنے والی عورتوں پر لعنت کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالُوا : ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ : أَيْنَ فُقَهَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مِنْبَرِهِ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ الْقُصَّةِ ، ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى رَأْسِهِ ، فَلَمْ أَرَهَا عَلَى عَرُوسٍ وَلا غَيْرِهِ أَجْمَلَ مِنْهَا عَلَى مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ، وَالْمُتَنَمِّصَةَ وَالنَّامِصَةَ ، وَالْوَاشِرَةَ وَالْمُسْتَوْشِرَةَ " .ابراہيم بن عبد اللہ بن قارظ نے بیان کیا میں نے مدینہ میں معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر سنا آپ فرما رہے تھے۔ اے مدینہ والو! تمہارے فقہاء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منبر کے پاس فرماتے سنا: آپ اس طرح کے بالوں کے گچھے (وگ) سے منع فرما رہے تھے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے سر پر رکھا تو میں نے اس کو معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی پر شادی یا اس کے علاوہ کسی موقع پر خوبصورت نہیں دیکھا اور آپ فرما رہے تھے: اللہ نے گودنے والی ، چہرے کے بال اکھڑوانے اور اکھیڑنے والی ، دانوں کو رگڑ کر برابر کرنے والی اور کروانے والی پر لعنت فرمائی۔